Latest Novels

منگل، 25 اگست، 2020

EpiSode 33 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se 
 Amara Mughal 

Episode 33

EpiSode 33 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel


3rd last Episode 

تین دن ہو گے تھے بالاج گھر لوٹ کر نہیں آیا تھا اور نہ ہی آیت نے پوچھنے کی ہمت کی تھی بالاج نے اسے کالز کی لیکن آیت نے ایک کال بھی نہ اٹھائی ابھی بھی وہ بیڈ پر ٹیک لگائے آنکھیں موندیں بالاج کے بارے میں سوچی جارہی تھی آنکھوں کے سامنے تین دن پہلے کا منظر لہرایا تین دن پہلے وہ رات کو واک پر گئے تھے آپس میں باتیں کرتے کرتے اتنے آگے نکل گئے انھیں احساس ہی نہیں ہوا یہ پہلی بار تھا جب انھوں نے آپس میں اتنی ساری ڈھیڑ باتیں کی اور پھر جب وہ گھر واپس آئے تو بالاج نے مووی لگالی جس میں فنی سینز دیکھ کر وہ دونوں ہی ہنس رہے تھے اور ساتھ ساتھ مووی بھی انجوایے کررہے تھے آیت کو لگا تھا وہ کتنے سالوں بعد کھل کر ہنسی ہو  بالاج بھی اپنی عادت کے برخلاف فنی سینز پر ہنسا جارہا تھا 

EpiSode 33 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel


بالاج کی نظر وقفے وقفے سے آیت پر اٹھتی وہ زور زور سے ہنستی ہوئی مووی کو خوب انجوائے کررہی تھی بالاج اس کو دیکھ کر مسکرا دیتا کیونکہ وہ ہنستے ہوئے بہت کیوٹ لگ رہی تھی آیت کی ہنسی کو بریک تب لگا جب تانیہ اسکی آنکھوں کے سامنے سے بالاج کا ہاتھ پکڑے لے گئی ایک بار پھر بالاج کی کال آئی وہ غائب دماغی سے اسے دیکھتے لگی اب اسنے موبائل آف کردیا تھا پندرہ منٹ ہوئے تھے جب اسے دروازہ کھولنے کی آواز آئی کون ہے آج تو کوئی ملازم گھر نہیں تو پھر کون ہو سکتا ہے


کون ہے 

آیت جلدی سے بیڈ سے اٹھی بیڈروم سے نکلتی وہ بلند آواز میں پوچھتی لائونج میں آئی تب پیسج میں سے دو آدمی لائونج کے اندر داخل ہو چکے تھےکون ہو تم اندر کیسے آئےان دونوں نے ماسک پہنے تھے آیت ان دونوں کو حیرت سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اسے کچھ گربڑ کا احساس ہوا  یہی ہے وہ ان میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہاآیت کو اس آدمی کی آواز جانی پہچانی لگی کون ہو تم اور یہاں کیا کررہے ہوخوف اسکے چہرے پر طاری تھااس سے پہلے وہ دونوں آیت کی طرف بڑھتے وہ بھاگتی ہوئی جلدی سے لائونج میں موجود سلائیڈ ڈور کا دروازہ لاک کرکے اپنے بیڈروم کی طرف بھاگی جب وہ بیڈ روم کا دروازہ بند کرنے لگی تو تب اسے سلائیڈنگ ڈور کا شیشہ توڑنے کی آواز آئی وہ دونوں اب آدمی اس کے کمرے کے باہر کھڑے مسلسل دروازے پر دھکے ماررہے تھے اور دروزے کا لاک کھولنے کی کوشش کررہے تھےاچانک اسکی نظر موبائل پر پڑی وہ جلدی سے بالاج کا نمبر ملانے لگی



بالاج آپ کہاں ہے پلیز کال ریسیو کرے

EpiSode 33 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel

آیت روتی ہوئی بے بسی سے بولی اسکی نظریں مساسل دروازے پر ٹکی تھی زور زور سے دروازے پر دھکا مارنے کی وجہ سے دروازے  پر لگی چٹکی کھل چکی تھی تھوڑی دیر اور مکہ مارنے کی وجہ سے اب دروازہ ٹوٹ چکا تھااس کو جلدی ٹھکانے لگا کے نکلنا ہےان میں سے پھر اسی ساتھی نے بولاآیت خوف کی وجہ سے سہم کر دیوار کے ساتھ لگ گئیاتنی جلدی کیا ہے پہلے اس چلبلی کے ساتھ تھوڑا مزا تو کر لوں ایک ساتھی خیانت سے بولادور رہو مجھ سےآیت خوف سے بولی وہ اب آدمی بالکل اسکے قریب پہنچ چکا تھا



آیت کی چینخ نکلی تھیایک قدم بھی  آگے بڑھایا نا تو بالاج سکندر سے برا کوئی نہ ہو گا بالاج کی آواز کسی دھاڑ سے کم نہ تھی بالاج کو اپنے سامنے دیکھ کر آیت کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر نئی روح پھونکی گئی ہووہ بھاگتی ہوئی بالاج کے گلے لگ گئی میں آ گیا ہوں نا کچھ نہیں ہو گا بالاج آیت کو سینے سے لگائے پیار سے بولا وہ دونوں ساتھی جیسے ہی بھاگنے پولیس نے انھیں پکڑ لیا چلو تمھیں سسرال کا دورہ کرواتے ہےانسپیکٹر ان کو دیکھتے ہوئے بولاپولیس ان کو جیسے ہی لے جانے لگی تھی رکیے انسپیکٹر زرا ان کی منہ دکھائی تو کرتے جائےبالاج  پولیس والوں کو روکتے ہوئے بولا


انسپیکٹر نے جیسے ہی ماسک ہٹانے کیلیے آگے  بڑھا ان دونوں میں سے ایک ساتھی ہاتھ چھڑوا کر بھاگنے لگا بالاج نے جلدی سے اس کو پکڑ ایک گھونسہ منہ پر مارا وہ نیچے فرش پر گرابالاج نیچے بیٹھتے ہوئے جلدی سے اسکا ماسک اٹھاآیت بے یقینی سے اس شخص کو دیکھنے لگی بالاج بے یقین سا فرش پر ڈھے گیاآیت بے یقینی سے بولی تیمور کے چہرے پر خوف نمایاں تھاآپ کو تو میں نے بھائیوں جیسا مانا تھا تیمور بھائی اور آپ کیا کرنے جارہے تھےآیت بے یقینی سے دیکھتی روتے ہوئے بولی تھی م۔۔۔۔مطلب تم ہی ہا۔۔۔۔ہانیہ کے قاتل بالاج بے یقینی سے تیمور کو دیکھتے ہوئے بولا


مزید پڑھیں: قست نمبر  

یہ تم کیا کہ رہے ہو بالاج تیمور ہوش سمنبھالتے ہوئے بولاتانیہ بالاج نے تانیہ کو پکارا تھاتانیہ پولیس والوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی تانیہ کو دیکھ کر تیمور کے چہرے کا رنگ بدلا تھا تم کیا سمجھتے تھے میں تانیہ سے پیار کرتا ہوں تب اسکے آگے پیچھے منڈلاتا رہتا تھا نہیں مسٹر تیمور خان میں تو بس ہانیہ کے قاتل تک پہنچنا چاہتا تھامیں نے میسجز پڑھ لیے تھے تانیہ کے موبائل سے تم یہ لفافہ ڈھونڈنے آئے تھے اور میری میری آیت کو مارنے آیا تھاکچھ دن پہلے کی بات ہے کال آئی تھی میرے موبائل اور اسنے مجھے سب سچ بتا دیا تھااور تمھیں پتا ہے وہ کون تھی بالاج دھاڑا تھامارخ تمھاری ایکس گرل فرینڈ شرم آتی ہے مجھے تمھیں اپنا بھائی کہتے ہوئےبالاج طیش کے عالم میں غصے سے بولا تھامیں نے کچھ نہیں بالاج یہ سب سازش ہے


تیمور بالاج کو سمجھاتے ہوئے بولا

تمھیں پتا ہے یقین میں نے بھی نہیں کیا میں نے مارخ کو صاف منع کردیا میرا وہ میرا بھائی ہے وہ کبھی مجھے یا میرے بہنوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ایسا کرنا تو کیا وہ سوچ بھی نہیں سکتا  لیکن وہ نہیں مان رہی تھی تب میں نے اسکو غلط ثابت کرنے کیلئے پلین بنایا لیکن میں خود غلط ثابت ہو گیابالاج کی آنکھ سے آنسو گرا تھانہیں بالاج یہ سازش ہے میں کیوں قتل کروں گاتیمور ایک بار پھر بولابس


بالاج دھاڑا تھا

میںنے کچھ نہیں کیا بالاج تم مجھے غلط سمجھ رہے ہوتیمور بالاج کے پاس آتے ہوئے بولاتو پھر یہاں کیا کررہے تھے میں نے تمھارے نمبر پر میسج کیا تھا تمھیں بلیک میل کیا کہ اس سی ڈی میں تمھارے خلاف ثبوت ہے اور یہ سی ڈی میرے روم میں ہے اور تم اسے ہی لینے آئے تھے نا اور تانیہ کو اسی لیے میرے پاس ائی تاکہ میرا سارا دھیان تانیہ کی طرف ہو جائےبالاج تیمور کو دھکا دیتے ہوئے بولام۔مجھے یقین ہی نہیں آرہا میرا بھائی میرے ساتھ ایسے کرسکتا ہےبالاج غصے سے بولا تھا

8 تبصرے: