Latest Novels

جمعہ، 21 اگست، 2020

Mohabbat tumse nafrat hai novel

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se
Amara Mughal 

#EpiSode_32

Amara mughal


☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆


ترا فراق بھی،  قربت بھی ایک مسئلہ ہے

ہمارے ساتھ محبت بھی ایک مسئلہ ہے


تمہارے شہر میں داخل ہُوئے تو یاد آیا

تمہارے شہر سے ہجرت بھی ایک مسئلہ ہے


تمہارے شہر میں آکر رہے تو ہم پہ کھلا

ہماری گاؤں سے نسبت بھی ایک مسئلہ ہے


ہمیں کسی نےبتایا تھا ہاتھ ملتے ہوئے

زر و زمین بھی عورت بھی ایک مسئلہ ہے


عدم وجود کی چاہت تو مسئلہ ہے مگر

عدم وجود سے نفرت بھی ایک مسئلہ ہے


ہمارے گاؤں کی مٹی میں خواب اُگتے ہیں

ہمارے گاؤں میں غربت بھی ایک مسئلہ ہے


خیال و خواب کی بیباکیوں کے پیشِ نظر

خیال و خواب میں خلوت بھی ایک مسئلہ ہے


تمہیں ہمارے لیے وقت ہی نہیں ملتا

ہمارے واسطے فرصت بھی ایک مسئلہ ہے 



بالاج کو جب سے آیت کی بیماری کا علم ہوا تھا وہ اسکا ہرطرح سے خیال رکھنا شروع ہو گیا تھا ہمیشہ اسکے پاس رہتا اسکو کسی بھی کام میں ہاتھ نہ لگانے دیتا آیت بالاج کو ہونقوں کی طرح دیکھتی رہتی وہ کیوں ایسا کررہا تھا وہ ہمیشہ یہی سمجھتی بالاج اس پر ترس پر کھا رہا ہے لیکن وہ ترس کی تو بھوکی نہ تھی بالاج کو اس طرح دیکھ اسکو اسطرح دیکھ چڑ ہونے لگی تھی



آیت کمرے میں گپ اندھیرا کیے بالاج کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی جب اسکی آواز کمرے میں گونجی


یہ لو کھانا کھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کے پاس ٹرے رکھتے ہوئے بولا


میرا دل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

آیت رخ موڑتے ہوئے بولی


کیوں کدھر ہے دل۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا


بالاج کی بات پر آیت نے فورا اس کی طرف دیکھا تھا


بالاج نے نظریں پھیری تھی


کھانا کھائو۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نرمی سے بولا تھا


کہا نا بھوک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

آیت غصے سے بولی تھی


وہ کھڑی ہی ہوئی تھی جب بالاج نے آیت کا ہاتھ پکڑ لیا


میں نے کہا کھانا کھائو۔۔۔۔۔۔

بالاج برف جیسا تاثر لیے غرایا تھا


آیت ڈر سے آرام آرام سے نوالے لینے لگی


آیت کو کھانا دیکھ بالاج پرسکون ہوا تھا


ہایے بے بی ۔۔۔۔۔۔

وہ آیت کو دیکھ ہی رہا تھا جب تانیہ روم میں داخل ہوئی

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se


تم یہاں ۔۔۔۔۔۔۔

ناصر تانیہ کو حیرانگی سے دیکھنے لگا


ہاں کتنے دن ہو گئے ہے میں تم سے ملی نہیں اس لیے آ گئی۔۔۔۔۔۔

تانیہ اب باقاعدہ بالاج کو گلے لگاتے ہوئے بولی


تانیہ اور بالاج کو یوں دیکھ آیت کی آنکھیںسرخ ہوئی تھی


اچھا کیا میں بھی تمھیں بہت مس کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نرمی سے بولا تھا


تانیہ فتح کی مسکراہٹ لیے آیت کی طرف دیکھنے لگی


بالاج نے آیت کی طرف دیکھا جس کے آنسو نکلنے کے لیے بے تاب تھے


تم نے کھانا نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا


میں کھا چکی۔۔۔۔۔۔

آیت منہ پھیرتے ہوئے بولی


تانیہ تم دو منٹ ویٹ کرو میں آتا ہوں۔۔۔۔۔۔

وہ تانیہ کی طرف رخ موڑے بولا


میں یہاں بھی ویٹ کرسکتی ہوں بے بی۔۔۔۔۔۔

محبت بھرے لہجے میں تانیہ بالاج کو بولی


میں نے کہا نا نیچے ویٹ کرو۔۔۔۔۔۔

بالاج اب کی بار تھوڑا غصے سے تانیہ سے بولا تھا


ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے بولتی دروازہ زور سے بند کرتی باہر نکل گئی


چلو کھانا کھائو۔۔۔۔۔۔۔

بالاج اب آیت کی طرف متوجہ ہوا


آپ جائے وہ ویٹ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت غصے سے بولی


تم کھانا کھائو پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج غرایا تھا


آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں کھائوں یا نہ کھائوں۔۔۔۔۔۔۔

آیت روتے ہوئے بالاج کو دیکھتی بولی


مجھے فرق پڑتا ہے اگر تم کھائو گی نہیں تو میرا بچہ ہیلدی کیسے ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا تھا


او ہو تو آپ کو بچے کی فکر ہے تب ہی میں بولوب اتنا مہرباں کیوں ہورہے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت کی آنکھوں سے لڑیوں کی طرح آنسو گررہے تھے


ہاں تو میرا بچہ ہے اسی کی فکر کرون گا نا۔۔۔۔۔۔۔

وہ طنزیہ لہجے میں بولا تھا


یہ آپکا بچہ نہیں میرا بچہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت غصے سے بولی


یہ تو وہ بات ہو گی محنت میری اور مزدوری کوئی دوسرا لے جائے۔۔۔۔۔۔۔

لہجہ ہنوز طنزیہ تھا


جائے آپ ییاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ رخ مورتی بولی


یہ دوائی لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھاڑ اتنی سخت تھی اسنے جلدی سے دوائی پکڑی منہ میں ڈال لی




☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆



اپنے ڈر کو قابو رکھتے ہوئے وہ پھر سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لائی


اب مسکرا کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔

ناصر کو اسکا مسکرانا زہر لگ رہا تھا دل کررہا تھا اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دوں


ناصر کی بات پر وہ اور کھل کر ہنسنے لگی

(اصل میں یہ زویا کی عادت تھی وہ اپنے ڈر کو چھپانے کے لیے کھل کے ہنستی تھی)


میں نے کوئی جول سنایا ہے یا میرے منہ پر کوئی جوک لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پاگلوں کی طرح مسکرا رہی تھی نب ناصر غصے سے بولا


آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

زویا منہ کے زاویے بناتے ہوئے بولی تھی


تم سے مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر ابرو اچکاتے ہوئے بولا


بیوی ہوں آپکی۔۔۔۔۔۔

زویا ایک ادا سے بولی تھی


پر میں تمھیں اپنی بیوی  نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے پھنکارا تھا


ٹھیک ہے پھر مجھے طلاق دے۔۔۔۔۔۔

زویا تو غصے سے آگ بگولہ ہو گئی تھی اور غصے سے بولی


کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔

ناصر غصے سے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا


طلاق چاہیے مجھے۔۔۔۔۔۔

زویا بھی غصے سے پھنکاری تھی


اور تب ہی ناصر کا ہاتھ اٹھا تھا زویا کے روئی جیسی گل پر


زویا بے یقینی سے ناصر کو دیکھنے لگی


تمھاری ہمت کیسے ہوئی ایسے الفاظ اپنے میں لانے کی۔۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے اسکی ٹھوڑی دبوچتے ہوئے بولا


ہاں جب آپ مجھے حق نہیں دے سکتے بیوی کا آپ مجھ سے محبت نہین کرتے میں ایسے شخص کے ساتھ پوری زندگی گزار کر کیا کروں


زویا کی آنکھوں سے لڑیوں کی مانند آنسو گرنے لگے


وہ غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتی جیسے ہی باہر نکلنے لگی ناصر نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا


چ ۔۔ھ ۔۔۔وڑی۔۔۔ں    چھوڑے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا غصے سے بولی تھی 


آج میں تمھیں بتاتا ہوں حق لینا کسے کہتے ہے بہت شوق ہے نا۔۔۔۔۔۔


وہ جو روتے ہوئے ہچکیوں کے دوران اسے بامشکل ہاتھ چھڑوارہی تھی ناصر کے ایکدم بازو دبوچ کر اپنے قریب کرنے پر دبی چینخ برآمد ہوئی تھی اس کے منہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقابل کی قربت جان لینے کو ہو گئی خوف اس قدر غالب آ گیا تھا چہرہ یوں سفید ہوا تھا جیسے اند خون ہی نہ ہو   


جان بوجھ کر آتی ہو نا سامنے میرے  اور اتنا تیار تاکہ میں تمھاری طرف مائل ہو سکوں۔۔۔۔۔۔

اس کے بازو پر گرفت سخت ترین کرتا وہ دانت پیس کر بولا تھا آخر میں اس کے بازو کو جھٹکا دے کر پوچھنے لگا 


میرے دل میں گرم نوشہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہو یہ دل صرف ہانیہ کے لے دھڑکتا ناصر یزدانی ہانیہ سے محبت کرتا تھا کرتا ہے اور کرتا رہے گا شرم نہیں آتی اپنی بہن کی جگہ لیتے ہوئے اپنا آپا پیش کرتے ہوئے


ناصر۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی بات کاٹتا وہ مزید بولا مقابل کے زہریلے لفظوں کو بمشکل سنتی لفظ پیش کرنا سن کر تڑپ ہی گئی تبھی چینخ پڑی مقابل جلد ہی احساس ہوا کہ وہ غلط کر گئی جب ناصر غصے میں اسکی ٹھوڑی پکڑا ہاتھ سے


تمیز تو تمھیں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا کی ٹھوڑی پر گرفت مضبوط کرتا وہ غرایا 


وہ اسکو غصے سے بیڈ پر پھینکتا غصے سے دیکھنے لگا


نہیں پلییز۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے لبوں پر جھکتے ناصر کو وہ روتی ہوئی بولی تھی


یہ آپ کیا کررہے ہے۔۔۔۔۔۔۔

اس بار رونے کے ساتھ ساتھ زویا کو غصہ آیا تھا وہ یہ تو نہیں چاہتی تھی جب وہ اسکی بہن سے محبت کرتا ہے تو کیوں زبردستی کررہا ہے  تبھی بھرائی آواز میں زچ ہو کر بولی


تمھارا حق تمھیں دے رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہی ناصر اسکی گردن پر جھکا ہلکی بڑھی شیف کی چبھن سمیت اسکا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے زویا کو منتشر ہوئی دھڑکنیں اپنے کانوں میں سنائی دی دل جیسے سینہ توڑ کر باہر آنے لگا ہو دھڑکنوں نے ایک سو بیس کی سپیڈ پکڑ لی تھی تبھی وہ زور لگاتی اس کو دھکا دیتی واشروم میں بھاگ گئی


یہ میں کیا کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ناصر کو جیسے ہوش آیا تھا وہ غصے سے روم سے باہر نکل گیا

4 تبصرے:

  1. Yar plz ab sara Sach pta chl Jaye Balaaj ko, muje lga tha k Ayat k blood cancer ka sun kr Balaaj ab Tania sy ni Mily ga lkn ye ab b mil rha, qasam sy Balaaj starting ma jitna acha lgta tha ab utna hi bura lgta, bachari hmari masoom si, piari si Stay❤️❤️❤️❤️❤️❤️

    جواب دیںحذف کریں
  2. Zabardast but ab Ayat KY sth sb acha kr dain

    جواب دیںحذف کریں

Please do not enter any spam link in the comment box.