Latest Novels

پیر، 10 اگست، 2020

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se | Amara Mughal | Novel | EpiSode 29

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤
  Amara Mughal❤


EpiSode 29


☆☆☆☆☆☆☆☆☆


عشق محبت کرنے والے اکثر پاگل ہو جاتے ہیں

ایسی آگ میں جلنے والے اکثر پاگل ہو جاتے ہیں


ہم ان کے دیوانے کیوں ہیں کیسے یہ سمجھائیں تم کو 

ان کی آنکھیں تکنے والے اکثر پاگل ہو جاتے ہیں 


کھو دیتے ہیں  ہوش جو ان کو الزام نہ دینا 

تیری غزلیں پڑھنے والے اکثر پاگل ہو جاتے ہیں

 


آیت۔۔۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم پکارتے آگے بڑھی تھی مگر دوسری جانب وہ ہنوز چھت کو گھورتی رہی اس کے سپاٹ تاثرات اور نیلی آنکھوں میں برف جیسا تاثر تھا ایک پل کو رضیہ بیگم کو یقین نہ آیا وہ آیت ہی ہے


آیت میری بیٹی۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم نے پھر پکارا لیکن وہ ہنوز چھت کو گھورتی رہی 


تمھاری ماں آئی ہے بیٹی۔۔۔۔۔

تیسری پکار پر وہ رضیہ بیگم کی ترحم نظروں کو دیکھ سپاٹ تاثرات اذیت میں بدلے تھے لیکن پھر بھی آیت کی آنکھوں سے ایک آنسو نہ نکلا تھا


میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم دیوانہ وار آیت کو چومتی رہی


اتنے میں ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ناصر اور بالاج بھی داخل ہوئے


تو مسسز سکندز اب آپ کیسا محسوس کررہی ہے۔۔۔۔۔

ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولا تھا


آیت کی زبان سے ایک الفاظ بھی ادا نہیں ہوا تھا آیت نے الٹا اپنی آنکھیں بند کر لی تھی


آپ صبح انھیں گھر لے جاسکتے ہے خیال رکھے انھیں کوئی سٹریس نہ پہنچے۔۔۔۔۔

ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہ کر جا چکے تھے


آیت ہمارے ساتھ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر نے ایک بار پھر بات کا آغاز کیا


نہیں وہ میری بیوی ہے میرے ساتھ جائے گی۔۔۔۔۔۔

بالاج نے بھی بات میں حصہ لیا


وہ میری بہن ہے۔۔۔۔۔۔

ناصر چلایا تھا


ناصر ۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم ناصر کے پاس آتے ہی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا


جی ماما کیق ہوا آپ کی طبیعت ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔۔۔۔

ناصر رضیہ بیگم کو یوں دیکھ فکرمندی سے بولا تھا


پلیز بیٹا لڑو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم روتے ہوئے بولی تھی


ماما میں لڑ نہیں آرہا بس اس ذلیل انسان سے کہ رہا ہوں آیت میری بہین میرے ساتھ اپنے اصل گھر جائے گی۔۔۔۔۔۔

ناصر بالاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا


آ ہاں میں بھی دیکھتا ہوں تم آیت کو کیسے لے کر جاتے ہو اب وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔

بالاج بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے ناصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا


بیوی لفظ کا مطلب بھی جانتے ہو تم لعنت ہے تم پر۔۔۔۔۔۔

ناصر چلا کے بولا تھا


Just behave yourself 

بالاج اس بار دھاڑا تھا


ناصر تم چپ کرو۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم غصے سے بولی تھی 


میں نے تمھیں بیٹا بنایا تھا اگر تمھارے دل میں میرے لیے تھوڑی بھی عزت ہے تو پلیز اسکا خیال رکھنا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم آنکھوں میں آنسو لیے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی تھی


آنٹی پلیز آپ ہاتھ نہ جوڑے۔۔۔۔۔۔

بالاج نے جلدی سے رضیہ بیگم کے ہاتھ پکڑ لیے بالاج کسی کو اپنے سامنے ہاتھ جوڑتے نہیں دیکھ سکتا تھا بڑوں سے تو کبھی بھی نہیں 


مجھ میں اب اور ہمت نہیں ہے۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم روتے ہوئے بولی 


آنٹی میں کوشش کروں گا۔۔۔۔۔

بالاج دھیمے انداز میں بولا تھا


چلو ناصر اب۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم ناصر کو دیکھتے ہوئے بولی


لیکن ماما آیت۔۔۔۔۔۔۔

ناصر ماں کو مایوسی سے دیکھتے ہوئے بولا


بیٹا چلو میری خاطر ۔۔۔۔۔۔

رضیہ بیگم روتے ہوئے بولی


ٹھیک ہے ماما۔۔۔۔

ناصر نا چاہتے ہوئے بھی راضی ہو گیا


بھائی ۔۔۔۔۔۔۔

بالاج جو ناصر اور رضیہ بیگم کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا زویا کی آواز سے متوجہ ہوا


زوئی تم نہیں گئی۔۔۔۔۔

بالاج زویا سے پوچھنے لگا


نہیں بھائی ۔۔۔۔۔

زویا روتے ہوئے بولی 


پر کیوں زوئی ۔۔۔۔۔

بالاج زویا سے حیرانگی سے پوچھنے لگا کیونکہ ان تین ماہ میں وہ ناصر کو بے حد چاہنے لگی تھی اور وہ ناصر کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی 


ویسے بھائی۔۔۔۔

زویا روتے ہوئے بولی تھی


اور تم رو کیوں رہی ہو ناصر نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔۔۔

بالاج زویا کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا


بھائی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔

زویا بالاج کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا


آپ کو ڈاکٹر بلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

نرس آ کے بالاج کو پیغام دینے لگی


تم رکو میں آتا ہوں ۔۔۔۔۔

زویا بالاج کو جاتے ہوئے دیکھنے لگی


جی ڈاکٹر کوئی ضروری بات تھی........

بالاج فکرمندی سے پوچھنے لگا


دیکھییں ابھی میں کچھ بھی نہیں بول سکتا لیکن مجھے لگتا ہے وہ کسی بیماری میں مبتلا ہے......

ڈاکٹر ٹہر ٹہر کر پروفیشنل انداز میں بولا تھا


ک....کونسی........

ڈاکٹر کے کہے الفاظ بالاج کو خوف میں مبتلا کر گئے تھے ہمت جٹا کر وہ ہکلاتے ہوئے بولا تھا


ہم نے کچھ ٹیسٹ لے لیے ہے صبح تک رپورٹس آجائے گی........

ڈاکٹر دھیمے انداز میں بولا تھا


ڈاکٹرکوئی پریشانی کی بات تو نہیںہے نہ..........

بالاج کے چہرے پر پریشانی صاف واضح دکھ رہی تھی


کچھ کہا نہیں جاسکتا ..........

ڈاکٹر بالاج کو دیکھتے ہوئے بولو


ڈاکٹر کی بات پر بالاج فورا سے اٹھ گیا وہ لاکھ اس سے نفرت کرتا ہو لیکن وہ اسکو دور جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا



کیوں آخر کیوں آپ میرے ساتھ ایسے ہوتا ہے جو میرے دل کے قریب ہوتا ہے آپ اس سے دور لے جاتے ہیں کیوں آخر کیوں ..........

آسمان کی طرف دیکھتا وہ روتے ہوئے بولا تھا

5 تبصرے:

  1. اب کیا فرق پڑتا ہے بالاج کو، پہلے آیت کے ساتھ اتنا ظلم کیا۔ اس کی وجہ سے اس کے بابا کی ڈیتھ ہوئی۔
    ایک بار سوچ تو لیتا کہ آیت کے پاس کیا وجہ تھی ہانیہ کو قتل کرنے کی

    جواب دیںحذف کریں

Please do not enter any spam link in the comment box.