Latest Novels

بدھ، 12 اگست، 2020

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se | Amara Mughal K Novels | EpiSode 30

  Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤
Amara Mughal 

 EpiSode 30

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤ Amara Mughal   EpiSode 30


☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆



ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

مرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھ تجھے آئینے میں اتار لوں


میں شام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا

ذرا ٹہر جا اسی موڑ پر ترے ساتھ شام گزار لوں 


اگر آسماں کی نمائشوں  میں مجھے بھی اذان قیام ہو  

تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں


کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں 

مرے پاس ہے مرا آئینہ میں کبھی نہ گردہ غبار لوں


کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے 

جنھیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں



مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔۔

آیت چلاتے ہوئے بول رہی تھی


لیکن بھابھی ڈاکٹر نے صبح بولا ہے۔۔۔۔۔

زویا ایک بار پھر سمجھاتے ہوئے بولی پیچھے ایک گھنٹے سے زویا آیت کو سمجھانے میں لگی تھی


اتنے میں بالاج روم میں داخل ہوا

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤
Amara Mughal

بھائی بھابھی کہ رہی ہے انھیں گھر جانا ہے۔۔۔۔۔۔

بالاج کو دیکھتی زویا جلدی سے بولی


ٹھیک ہے میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔

بالاج کہ کر جا چکا تھا


ڈاکٹر آیت بہت ضد کررہی ہے گھر جانے کی۔۔۔۔۔۔۔

بالاج ڈاکٹر سے سنجیدگی سے بولا 


ٹھیک ہے آپ انھیں لے جاسکتے ہے۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر بالاج کو دیکھتے ہوئے بولے جس کی آنکھیں حد درجہ سرخ تھی


لیکن رپورٹس۔۔۔۔۔۔

بالاج بولتے بولتے رکا تھا


وہ آپ صبح لے جائیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جی ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج کہ کر اٹھ گیا  تھا


بھابھی چلے۔۔۔۔۔

زویا ہاتھ کا سہارا دیتے ہوئے بولی تھی


آیت زویا کا ہاتھ پکڑے جیسے ہی کھڑی ہوئی سر کے شدید درد کی وجہ سے وہ پھر بیڈ پر بیٹھ گئی


بالاج آیت کو دونوں بانہواں میں اٹھائے کار میں بٹھایا


تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ گھر پہنچ چکے تھے پورے راستے آیت کے منہ سے ایک الفاظ ادا نہیں ہوا تھا


بھائی آپ بھابھی کو اندر لے جائے۔۔۔۔۔۔

زویا بالاج کو دیکھتے ہوئے بولی تھی


نہیں میں خود چلی جائوں گی۔۔۔۔۔۔

برف جیسا تاثر لیے آیت مخاطب ہوئی تھی


لیکن بھابھی۔۔۔۔۔۔

زویا بولتے بولتے رکی تھی


بالاج نے یاتھ کے اشارے سے زویا کو روکا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں باہر جانے کا بولا تھا


تو آپ کیا کہ رہی تھی آپ خود جاسکتی ہے تو چلے جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کو دیکھے سنجیدگی سے بولا تھا


آیت نے ترچھی نگاہ کیے بالاج کی طرف دیکھا تھا


دیکھ کیا رہی ہے چلو۔۔۔۔۔

بالاج کے چہرے پر سنجیدگی کا تاثر تھا


آیت غصے سے نکلتی ابھی دو قدم ہی نہیں ہوئے تھے کہ درد کی شدت اتنی تھی سر میں وہ لڑکھڑا کے گرنے ہی لگی تھی 

بالاج نے سہارا دیا تھا موسم کا رخ بدلا تھا


بس اتنا ہی چلنے ہوا۔۔۔۔۔

بالاج آیت کو بانہوں میں لیے طنزیہ لہجہ اپنائے بولا تھا

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤
Amara Mughal

آیت نے غصے سے منہ پھیرا تھا


بالاج آیت کو کمرے میں لٹائے بیڈ پر لٹایا تھا


آیت رخ موڑ گئی تھی


بالاج فریش ہونے کیلئے باتھ روم میں چلا گیا تھا


تقریبا وہ دس منٹ بعد باہر نکلا لیکن آیت وہاں نہیں تھی


آیت۔۔۔۔۔۔

آیت ۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت۔۔۔۔۔۔۔

آیت کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج ہر طرف نظر دوڑاتے ہوئے چلاتے ہوئے بولا تھا


لیکن آیت وہاں کہی بھی بالاج کو نظر نہیں آئی


ایک تو چلنے نہیں ہوتا پھر کہاں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔

غصے کے ساتھ ساتھ پریشانی کا بھی عنصر تھا بالاج کے چہرے پر


نیچے دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نے سوچتے ہوئے نیچے کی طرف دوڑ لگادی


بھائی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔

زویا بالاج کو دیکھتے ہوئے بولی اس کے چہرے پر پریشانی صاف نمایاں تھی


زوئی میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں ابھی میں جلدی میں ہوں۔۔۔۔۔۔

بالاج ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے جلدی میں بولا تھا


لیکن بھائی۔۔۔۔  

بھائی ۔۔۔۔۔۔

بھائی۔۔۔۔۔۔۔

پیچھے سے زویا بالاج کو پکارتے رہ گئی تھی


بھائی کو کیسے بتائوں تیمور کے بارے میں وہ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں ناصر کو بتا نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا دل ہی دل میں بولی تھی خوف اس کے چہرے پر صاف نمایاں تھا


آیت۔۔۔۔۔۔۔

آیت ۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نے نیچے پورے صحن میں نظر دوڑائی لیکن آیت کا وہاں نام ونشاں ہی نہ تھا

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se❤
Amara Mughal


آیت۔۔۔۔۔۔۔

آیت۔۔۔۔۔۔۔

باہر زور و شور سے بارش برس رہی تھی


بالاج پوری طرح سے بھیگ چکا تھا لیکن اسے اپنی فکر نہیں تھی وہ تو بس آیت کو ڈھونڈنے میں مصروف تھا


آیت کہاں چلی گئی ہو۔۔۔۔۔۔

بالاج چینختے ہوئے بولا تھا


کمرے میں دوبارہ چیک کرتا ہوں۔۔۔۔۔

بالاج اپنی بات پر عمل کرتا فورا کمرے کی طرف بھاگا تھا


آیت۔۔۔۔۔

بالاج نے کمرے میں ہر طرف نظر دوڑائی لیکن آیت اسکو نہیں ملی


وہ مایوسی سے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔


باہر بہت تیز بارش برس رہی تھی بجلی کی بھی آوازیں بہت تیز سے آرہی تھی


اچانک بالاج کی نظر بالکونی میں پڑی


آیت گھٹنوں میں منہ دیے کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

آیت کو یوں دیکھ کر بالاج کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئی


آیت تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔

بالاج غصے سے دھاڑا تھا


آیت۔۔۔۔۔۔

آیت تم مجھے سن رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت کو یوں ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ بالاج نے غصے سے مٹھی بھینچی تھی


دور رہو مجھ سے میں مار دوں گی سب کو۔۔۔۔۔

آیت کو وہ جیسے ہی اٹھانے لگا تو اپنے قریب بالاج کو آتی دیکھ چلائی تھی


آیت چلو اندر۔۔۔۔۔۔

بالاج غصے سے بولا تھا


نہیں نہیں میں سب کو ماردوں گی تم چلے جائو یہاں سے میں تمھیں بھی مار دوں گی۔۔۔۔۔۔

آیت پاگلوں کی طرح بولتی بولتی چلاتے ہوئے بولی تھی 


آیت چلو۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کو دیکھتا غصے سے بولا جو تھا


نہیں نہیں میں سب کو مار دوں گی........

آیت اپنے حواس میں نہیں تھی


بالاج غصے سے آیت کو اٹھائے روم میں لایا


د...دور ....ر...رہو مجھ سے.........

آیت تھر تھر کانپتے ہکلاتے ہوئے بولی تھی


بالاج نے روم کا ہیٹر آن کیا تھا


میں نے ہانیہ کو مار دیا...........

آیت پاگلوں کی طرح بولی تھی


بالاج آیت کو دیکھتا رہ گیا 


اور اب بابا کو مار دیا........

,آیت اپنے بال نوچتے ہوئے بولی تھی


تم نے نہیں مارا بابا کو...........

بالاج آیت کا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا جو سردی کی وجہ سے یخ ٹھنڈہ ہو گیا تھا


نہیں نہیں میں نے بابا کو مارا ہے میں قاتل ہوں مجھے جینے کا کوئی حق نہیں.........

آیت نے سامنے باسکٹ میں پڑی چھڑی کو دیکھتے ہوئے بولی


ایک سو بیس کی سپیڈ سے بالاج کا ہاتھ چھڑواتی ہاتھ میں چھڑی لی تھی


آیت نے چھڑی نبض پر رکھی تھی


وہ جیسے ہی کاٹنے لگی تھی بالاج نے فورا ہاتھ سے چھری کھینچی تھی


تم پاگل ہو........

بالاج نے غصے سے آیت کے منہ پر تھپڑ مارا تھا

3 تبصرے:

Please do not enter any spam link in the comment box.