Latest Novels

منگل، 25 اگست، 2020

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se 
 Amara Mughal 

EpiSode 33

Amara mughal


3rd last Episode 

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆



تین دن ہو گے تھے بالاج گھر لوٹ کر نہیں آیا تھا اور نہ ہی آیت نے پوچھنے کی ہمت کی تھی


بالاج نے اسے کالز کی لیکن آیت نے ایک کال بھی نہ اٹھائی 


ابھی بھی وہ بیڈ پر ٹیک لگائے آنکھیں موندیں بالاج کے بارے میں سوچی جارہی تھی


آنکھوں کے سامنے تین دن پہلے کا منظر لہرایا تین دن پہلے وہ رات کو واک پر گئے تھے آپس میں باتیں کرتے کرتے اتنے آگے نکل گئے انھیں احساس ہی نہیں ہوا یہ پہلی بار تھا جب انھوں نے آپس میں اتنی ساری ڈھیڑ باتیں کی  


اور پھر جب وہ گھر واپس آئے تو بالاج نے مووی لگالی جس میں فنی سینز دیکھ کر وہ دونوں ہی ہنس رہے تھے اور ساتھ ساتھ مووی بھی انجوایے کررہے تھے آیت کو لگا تھا وہ کتنے سالوں بعد کھل کر ہنسی ہو  بالاج بھی اپنی عادت کے برخلاف فنی سینز پر ہنسا جارہا تھا 

Amara mughal


بالاج کی نظر وقفے وقفے سے آیت پر اٹھتی وہ زور زور سے ہنستی ہوئی مووی کو خوب انجوائے کررہی تھی بالاج اس کو دیکھ کر مسکرا دیتا کیونکہ وہ ہنستے ہوئے بہت کیوٹ لگ رہی تھی


آیت کی ہنسی کو بریک تب لگا جب تانیہ اسکی آنکھوں کے سامنے سے بالاج کا ہاتھ پکڑے لے گئی


ایک بار پھر بالاج کی کال آئی وہ غائب دماغی سے اسے دیکھتے لگی


اب اسنے موبائل آف کردیا تھا


پندرہ منٹ ہوئے تھے جب اسے دروازہ کھولنے کی آواز آئی


کون ہے آج تو کوئی ملازم گھر نہیں تو پھر کون ہو سکتا ہے


کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت جلدی سے بیڈ سے اٹھی بیڈروم سے نکلتی وہ بلند آواز میں پوچھتی لائونج میں آئی تب پیسج میں سے دو آدمی لائونج کے اندر داخل ہو چکے تھے


کون ہو تم اندر کیسے آئے۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں نے ماسک پہنے تھے آیت ان دونوں کو حیرت سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اسے کچھ گربڑ کا احساس ہوا 


یہی ہے وہ۔۔۔۔۔

ان میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا


آیت کو اس آدمی کی آواز جانی پہچانی لگی


کون ہو تم اور یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔۔۔۔

خوف اسکے چہرے پر طاری تھا


اس سے پہلے وہ دونوں آیت کی طرف بڑھتے وہ بھاگتی ہوئی جلدی سے لائونج میں موجود سلائیڈ ڈور کا دروازہ لاک کرکے اپنے بیڈروم کی طرف بھاگی  


جب وہ بیڈ روم کا دروازہ بند کرنے لگی تو تب اسے سلائیڈنگ ڈور کا شیشہ توڑنے کی آواز آئی 



وہ دونوں اب آدمی اس کے کمرے کے باہر کھڑے مسلسل دروازے پر دھکے ماررہے تھے اور دروزے کا لاک کھولنے کی کوشش کررہے تھے


اچانک اسکی نظر موبائل پر پڑی وہ جلدی سے بالاج کا نمبر ملانے لگی



با۔۔۔بالاج آپ کہاں ہے پلیز کال ریسیو کرے۔۔۔۔۔۔۔

novel


آیت روتی ہوئی بے بسی سے بولی اسکی نظریں مساسل دروازے پر ٹکی تھی زور زور سے دروازے پر دھکا مارنے کی وجہ سے دروازے  پر لگی چٹکی کھل چکی تھی تھوڑی دیر اور مکہ مارنے کی وجہ سے اب دروازہ ٹوٹ چکا تھا


اس کو جلدی ٹھکانے لگا کے نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔

ان میں سے پھر اسی ساتھی نے بولا



آیت خوف کی وجہ سے سہم کر دیوار کے ساتھ لگ گئی


اتنی جلدی کیا ہے پہلے اس چلبلی کے ساتھ تھوڑا مزا تو کر لوں۔۔۔۔۔

ایک ساتھی خیانت سے بولا


دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔

آیت خوف سے بولی


وہ اب آدمی بالکل اسکے قریب پہنچ چکا تھا


بالاج ۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت کی چینخ نکلی تھی


ایک قدم بھی  آگے بڑھایا نا تو بالاج سکندر سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج کی آواز کسی دھاڑ سے کم نہ تھی


بالاج کو اپنے سامنے دیکھ کر آیت کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر نئی روح پھونکی گئی ہو


وہ بھاگتی ہوئی بالاج کے گلے لگ گئی


میں آ گیا ہوں نا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج آیت کو سینے سے لگائے پیار سے بولا


وہ دونوں ساتھی جیسے ہی بھاگنے پولیس نے انھیں پکڑ لیا


 چلو تمھیں سسرال کا دورہ کرواتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسپیکٹر ان کو دیکھتے ہوئے بولا


پولیس ان کو جیسے ہی لے جانے لگی تھی 


رکیے انسپیکٹر زرا ان کی منہ دکھائی تو کرتے جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج  پولیس والوں کو روکتے ہوئے بولا


انسپیکٹر نے جیسے ہی ماسک ہٹانے کیلیے آگے  بڑھا ان دونوں میں سے ایک ساتھی ہاتھ چھڑوا کر بھاگنے لگا


بالاج نے جلدی سے اس کو پکڑ ایک گھونسہ منہ پر مارا وہ نیچے فرش پر گرا


بالاج نیچے بیٹھتے ہوئے جلدی سے اسکا ماسک اٹھا


آیت بے یقینی سے اس شخص کو دیکھنے لگی


بالاج بے یقین سا فرش پر ڈھے گیا


ت۔۔۔۔تیمور آپ۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت بے یقینی سے بولی 


تیمور کے چہرے پر خوف نمایاں تھا


آپ کو تو میں نے بھائیوں جیسا مانا تھا تیمور بھائی اور آپ کیا کرنے جارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت بے یقینی سے دیکھتی روتے ہوئے بولی تھی


م۔۔۔۔مطلب تم ہی ہا۔۔۔۔ہانیہ کے قاتل۔۔۔۔۔۔۔

بالاج بے یقینی سے تیمور کو دیکھتے ہوئے بولا


یہ تم کیا کہ رہے ہو بالاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور ہوش سمنبھالتے ہوئے بولا


تانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نے تانیہ کو پکارا تھا


تانیہ پولیس والوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی


تانیہ کو دیکھ کر تیمور کے چہرے کا رنگ بدلا تھا


تم کیا سمجھتے تھے میں تانیہ سے پیار کرتا ہوں تب اسکے آگے پیچھے منڈلاتا رہتا تھا


نہیں مسٹر تیمور خان میں تو بس ہانیہ کے قاتل تک پہنچنا چاہتا تھا



میں نے میسجز پڑھ لیے تھے تانیہ کے موبائل سے تم یہ لفافہ ڈھونڈنے آئے تھے اور میری میری آیت کو مارنے آیا تھا


کچھ دن پہلے کی بات ہے کال آئی تھی میرے موبائل اور اسنے مجھے سب سچ بتا دیا تھا


اور تمھیں پتا ہے وہ کون تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج دھاڑا تھا


مارخ تمھاری ایکس گرل فرینڈ شرم آتی ہے مجھے تمھیں اپنا بھائی کہتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج طیش کے عالم میں غصے سے بولا تھا


میں نے کچھ نہیں بالاج یہ سب سازش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور بالاج کو سمجھاتے ہوئے بولا


تمھیں پتا ہے یقین میں نے بھی نہیں کیا میں نے مارخ کو صاف منع کردیا میرا وہ میرا بھائی ہے وہ کبھی مجھے یا میرے بہنوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ایسا کرنا تو کیا وہ سوچ بھی نہیں سکتا  لیکن وہ نہیں مان رہی تھی تب میں نے اسکو غلط ثابت کرنے کیلئے پلین بنایا لیکن میں خود غلط ثابت ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج کی آنکھ سے آنسو گرا تھا


نہیں بالاج یہ سازش ہے میں کیوں قتل کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور ایک بار پھر بولا


بس۔۔۔۔۔۔۔

بالاج دھاڑا تھا


میںنے کچھ نہیں کیا بالاج تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور بالاج کے پاس آتے ہوئے بولا


تو پھر یہاں کیا کررہے تھے میں نے تمھارے نمبر پر میسج کیا تھا تمھیں بلیک میل کیا کہ اس سی ڈی میں تمھارے خلاف ثبوت ہے اور یہ سی ڈی میرے روم میں ہے اور تم اسے ہی لینے آئے تھے نا اور تانیہ کو اسی لیے میرے پاس ائی تاکہ میرا سارا دھیان تانیہ کی طرف ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج تیمور کو دھکا دیتے ہوئے بولا


م۔۔۔۔مجھے یقین ہی نہیں آرہا میرا بھائی میرے ساتھ ایسے کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج غصے سے بولا تھا

8 تبصرے:

Please do not enter any spam link in the comment box.