Latest Novels

اتوار، 13 ستمبر، 2020

EpiSode 1 SAMONDAR MEN kaNARA TU Novel by Hania Bukharii

 SAMUNDAR_MEIN_KINARA_TU (BEAST)


EpiSode_1 

EpiSode 1 SAMONDAR MEN kaNARA TU Novel by Hania Bukharii



حسرتیں مچل گئیں جب تم کو سوچا اک پل کے لیےدیوانگی کیا ہو گی جب تم ملو گے مجھے عمر بھر کیلیے کانگریجولیشنز ذوالقرنین سکندرغازی صاحب چہرے پر ایک بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملانے ہوئے اسے مبارکباد دینے لگے تھینک یواس کے تاثرات برف کی طرح سرد تھےآج پھر تم ہم سے جیت گئے ہمیں فخر ہے تم پرغازی صاحب ایک بار پھر بولے   ذوالقرنین سکندرنے ہارنا کبھی نہیں سیکھا اور وہ بھی اس سے جو  پہلے سے یارا ہوتاثرات اب بھی برف کی طرح پتھریلے تھےاسکی اس بات پہ انکا چہرہ سرخ ہو گیا تھا لیکن وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر تھے کیوں کہ راکنگ چیئر پر بیٹھا وہ  سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس لمبا قد کھڑے مغرور نقوش وہ شخص ایک معمہ تھا اسکی شخصیت کو جو چار چاند لگاتی تھی وہ تھی اسکی خوبصورت نیلی آنکھیں جو کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنانے پر مجبور کر دیتی تھیٹھیک ہے اب میں چلتا ہوںغازی  اسکو وہی چھوڑتے نکل گئے اتنی بے عزتی ان کی برداشت کے حد سے باہر تھی


سر گاڑی نکالوں

غازی صاحب کے جاتے ہی خان جن کی طرح حاضر ہوتے ہی بولاہاں نکالولہجہ اب بھی برف جیسا تھاجی سرحکم ملنے ہی خان جن کی طرح غائب ہو گیاسکندر ولا کے سامنے گاڑیاں رکتے ہی ڈرائیور نے مستعدی سے دروازہ کھولا اور وہ مضبوط قدموں سے وسیع و عریض لان کی درمیانی روش کو عبور کرتا ہوا اندر داخل ہوا یار تو کدھر رہ گیا تھا میں انتظار کر کر کےآہل معصومیت سے ذوالقرنین سے پوچھنے لگااسنے فقط ابرو اچکا کے رئیلی کا تاثر دیااسکا رنگ فق ہو چکا وہ نفی میں گردن ہلانے لگاس۔۔سوری یار میں لیٹ ہو گیا کچھ کام آ گیا تھاآہل معصومیت سے بولا تھا ورنہ اس انسان کے سامنے اسکی جان نکلتی تھی ٹھیک آئندہ ایسا نہ ہوآہل کو وہ وارن کرنا نہ بھولا تھامعاف کردے یارآہل معصومیت سے بولا تھا

مزید پڑھیں: قست نمبر



بس اب ڈرامے نہ کر جانتا ہوں تمھیں ۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین مسکراتے ہوئے بولا تھاکتنا پیارا لگتا ہے نا مسکراتے ہوئے یااللہ جی پلیز اسکی مسکراہٹ کا سبب کوئی لے آئے وہ مسکرانا سیکھ جائےآہل نے دل ہی دل میں دعا کی تھی اٹھ جائو حوری کالج لیٹ ہو جائو گیایمن پیار سے حوریہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولی بجو اٹھتی ہوں۔حوریہ تکیے میں منہ دیتے ہوئے بولی حوری میری جان اٹھ جائو نہ ایمن ایک بار پھر پیار سے بولی بجو پلیز نا دو منٹ حوریہ ہنوز تکیہ میں منہ دیتی ہوئی بولی اب تم نہ اٹھی میں ناراض ہو جائوں گی ایمن مصنوعی غصہ لیے بولی بجو اٹھ گئی حوریہ نے ایک دم آنکھیں کھولی تھی چلو اب جلدی تیار ہو جائو ناشتہ کرو مجھے آفس بھی جانا ہے لیٹ ہو رہی ہوں وہ پیار سے حوریہ کو دیکھتے ہوئے بولی 


جی بجو

EpiSode 1 SAMONDAR MEN kaNARA TU Novel by Hania Bukharii
ایمن کو اپنی یہ ڈمپل والی گریا بہت پیاری تھی معصوم سی بچوں جیسی حرکتیں کرنے والی اسکی لاڈلی اسکی جان پیاری بہن تھی

SAMUNDAR_MEIN_KINARA_TU(BEAST)

HANIA_BUKHARIII

EPISODE_2


 تیرے روح کی سادگی اور تیرے پیار کی عاجزی سے پیار ہےورنہ حسن تو ازل سے بکتا رہا ہے مصر کے بازاروں میں  حوری چلو نہ ریسٹورینٹ چلتے ہےکالج میں وہ دونوں کیفے میں بیٹھی تھی جب آمنہ نے بات کا آغاز کیا  نہیں یار مجھے کہی نہیں جانا میں سیدھا گھر جائوں گی۔حوریہ معصومیت سے بولی تھی پلیز نہ حوری سب جاتے ہے میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔آمنہ اسے تسلی دینے لگی بجو کو پتا چل گیا نہ وہ غصہ کرے گی۔حوریہ کی آنکھوں میں ایمن کا چہرہ لہرایا تھا انھیں کوئی بتائے گا تو تب نہآمنہ منہ بناتے ہوئے بولی تھی


لیکن آمنہ

حوریہ کچھ بولنے ہی لگی تھی آمنہ بیچ میں بات کاٹ گئی اب تم نے انکار کیا نہ تو میں ناراض ہو جائوں گی آمنہ ایک ادا سے بولی تھی ٹھیک ہے لیکن ہم جلدی آ جائے گے۔وہ تھی ہی اتنی معصوم کسی کی ناراضگی وہ برداشت نہیں کر پاتی تھی آمنہ نے جلدی سے میسج میں ڈن لکھااس کے چہرے پر مکرو مسکراہٹ پھیلی تھی فائل اسکے سامنے کھلی پڑی تھی جبکہ چہرہ ضبط کی گہری نشاندہی کررہا تھا آنکھوں سے گویا لہوں ٹپکنے لگایہ انفارمیشن کہاں سے لی اسنے سامنے کھڑے شخص سے سوال کیا 


یہ ہوٹل کے مینیجر نے دی ہے بچپن کا دوست ہے میرا اور اسکا اصل ٹھکانہ وہی ہےاسنے سر جھکائے جواب دیا اور پھر ایک چور نظر اسکے چہرے پر ڈالی جس پہ ناقابل فہم تاثرات تھےہمیں جلد سے جلد وہاں پہنچنا ہو گااسکا سرخ پڑتا چہرہ اسکے ضبط اور شدید غبض کی علامت تھی لیکن آپ کا جانا وہاں خطرے سے خالی نہیں وہ چاہتا یہی  ہے بیسٹ سب کے سامنے آ جائےسامنے شخص جو اسکا ماتحت تھا وہ بیسٹ کو سمجھانے ہوئے بولابیسٹ خطروں کی پرواہ نہیں کرتا یہ تو تم جانتے ہو گےابرو اچکا کے وہ بولا تھا



ماتحت کا چہرہ زرد ہو گیا تھا بیسٹ کے خوف سےآمنہ تم مجھے کہاں لے آئی ہو یہ ریسٹورینٹ تو نہیں ہے۔حوریہ خوف سے بولی تھی کچھ نہین ہوتا اندر چلوآمنہ حوریہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی آمنہ اسے کسی روم میں لے آئی تھی آمنہ تم مجھے کہاں لے آئی ہو حوریہ کے چہرے پر خوف نمایاں تھا


آمنہ اسے وہی چھوڑ کر باہر نکل گئی تھی پیچھے سے حوریہ اسے پکارتی رہ گئی تھی بجو آپ کہاں ہے۔حوریہ گھٹنوں میں منہ چھپا کر رونے لگی ویلکم انار کلی مکرو مسکراہٹ لیے ایک شخص روم میں داخل ہوابچائو مجھے پلیز مجھے بچائو بجو۔حوریہ چلا رہی تھی چپ کر جائووہ شخص چلایا تھا حوریہ پرم۔۔مجھے ۔۔۔۔گ ۔۔۔گھر جانا ہے۔۔۔۔۔پ۔۔پلیز مجھے چھوڑ دو حوریہ ہکلاتے ہوئے بولی تھی سامنے کی مکرو مسکراہٹ دیکھ دل جیسے پھٹنے لگا ہوآج ذوالقرنین کی ایک اہم میٹنگ تھی جس کے سلسلے میں وہ ہوٹل آیا تھا سر اپ رکے میں روم پوچھ کے آتا ہوں۔خان جلدی سے بولا تھا


جلدی کرو تمھارے پاس صرف ایک منٹ ہےبرف جیسا تاثر لیے وہ خان سے مخاطب ہواج۔۔۔جی سروہ جن کی طرح غائب ہوتے ہی کچھ ہی سیکنڈز میں آ گیا تھاچلے سرخان جلدی سے بولا ذوالقرنین کے پیچھے باڈی گارڈز کی ٹیم تھی تم سب یہی رکوباڈی گارڈز کو وہ بولا تھالیکن سر یہ سب آپکی سیفٹی کیلئے ہے۔خان جلدی سے بولا تھااور تم بھی یہی رکوذوالقرنین اب خان کی طرف رخ کیے بولا تھا


نہیں سر میں آپ کے ساتھ جائوں گا کچھ بھی ہو جائے۔خان نفی میں سر ہلانے بولا تھااوکے فائن وہ جانتا تھا خان کسی بھی طریقے سے نہیں مانے گاخان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔ذوالقرنین نے ابرو اچکائیں تھےخان کا چہرہ فق ہویا تھا کیسی ہو ایمن آہل ایمن کو دیکھتے ہوئے بولا جو کوئی فائل پڑھنے میں مصروف تھی تم پھر آگئے ہوا کے جھونکےایمن منہ بناتے ہوئے بولی تھی کیا کہا ہوا کے جھونکے کس اینگل سے تم نے تم پھر موٹی بھینس ہوآہل تیزی سے بولا تھا تم نے مجھے موٹی بھینس کہا ہوا کے جھونکے ایمن غصے سے بولی تھی


موٹی بھینس

موٹی بھینس موٹی بھینس آہل بنا رکے بولا تھا تمھارا تو آج میں خون پی جائوں گی ایمن غراتے ہوئے طولی تھی

آہل ایمن کو غصہ دیکھ فورا سے وہاں سے نکل گیا



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں