Latest Novels

جمعرات، 3 ستمبر، 2020

EpiSode 34 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se | amara mughal novels

  Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se 

 Amara_Mughal

EpiSode_34

EpiSode 34 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se | amara mughal novels


(2nd last episode)

لے جائو انسپیکٹر اسےبالاج رخ موڑتے غرایا تھا بالاج یہ تو اچھا نہیں کررہا میں نے کچھ نہیں کیا تیمور کا لہجہ معصومیت بھرا تھا تیمور تم نے ہانی کو کیوں مارا وہ تو تمھیں اپنا بھائی مانتی تھی تمھاری کتنی عزت کرتی ہے کیوں تیمور میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گابالاج کا لہجہ  برف جیسا تاٹر تھا بالاج اس سے پہلے تیمور کچھ بولتا بالاج نے کھینچ کر تیمور کو تھپڑ ماراتم نے میرے بھروسے کو توڑا ہے تم نے مجھے جیتے جی مار دیا میں دنیا میں سب سے زیادہ تم پر بھروسہ کرتا تھا تمھیں مانتا تھا بالاج کا لہجہ مان ٹوٹنے والا تھا تمھاری اتنی ہمت تم نے مجھے تھپڑ ماراتیمور غصے سے بالاج کی طرف بڑھتے ہوئے بولا انسپیکٹر نے فورا تیمور کو پکڑا تھاہم نے تو سنا تھا دوست وفا کرتے ہےجب ہماری باری آئی تو بازی ہی الٹ گئی


بالاج طنزیہ بولا

میں تم سے بدلا لینے ضرور آئوں گا چھوڑوں گا نہیں تمھیں انسپیکٹر تیمور کو گھسیٹتے ہوئے لے جارہے تھے تب وہ غصے سے بولاانسپیکٹر رکیےبالاج نے انسپیکٹر کو رکنے کا کہا تھا کس ۔۔۔۔۔کس چیز کا بدلا لو گے تم سب کچھ تو تم نے میرا لے لیا ہے میری ہانی ایون کے میری محبت تمھاری صرف تمھاری وجہ سے میں نے اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا اب کیا کرو گے تم بالاج تیمور کا کالر پکڑتے ہوئے غصے سے غرایاجو تمھارے باپ نے میرے ماں باپ کے ساتھ کیا کیا وہ ٹھیک ہے  تم سب کو نہیں چھوڑوں گا تیمور بالاج کا ہاتھ اپنے کالر سے جھٹکتے ہوئے بولابابا نے جو کیا وہ ان کی غلطی تھی ہماری نہیں تو تو ہمارا بھائی تھا لے جائے انسپیکٹر اسے اور اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے

بالاج انسپیکٹر کو بولا تھا

EpiSode 34 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se | amara mughal novels

دیکھ لینا میں آئوں گا ضرور تمھاری موت بن کرتیمور جاتے جاتے بولا تھابالاج نے جب رخ موڑا تو آیت وہاں نہیں تھی وہ وہی صوفے پر ڈھے گیاآیت نے شکرانے کے نفل ادا کیایااللہ جی آج میں بہت خوش ہوں آپ نے میری بے گناہی ثابت کردی میں غلط نہین تھی میں نے ہانیہ کا قتل نہیں کیا یااللہ جی آپ غفورورحیم ہےدعا میں ہاتھ اٹھائے آیت اللہ تعالی کا شکر ادا کررہی تھی کافی دیر سے صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا وہ خود سے سر زد ہوئے ظلموں کا سوچتے اب آنکھیں موندا تھا آنکھ کے کنارے پر ٹہرا ایک ندامت کا آنسو چپکے سے نکلتا اسکی داڑھی میں جذب ہو گیابے سکونی سے بھرا دل بھر آیا اس لڑکی پر اپنی بے یقینی کا سوچ کیوں وہ اس قدر بے رحم بنا تھا آخر وہ تو محبت تھی اسکی وہ روتی تڑپتی رہی اور وہ ڈرامہ سمجھتا رہا ۔میں نے کچھ نہیں کیاکتنے کرب کے عالم میں کہتی تھی وہ میں نے کچھ نہیں کیا مگر اس وقت جیسے بالاج سکندر بے بہرہ بنا ہوا تھا کیا ہوتا وہ اس کے الفاظوں پر غور کرتا


میں نے نہیں مارا ہانیہ کواس کے تڑپتے الفاظ کانوں پر پڑے تو بالاج سکندر کو سانس لینا محال ہو گیا وہ سچ تو کہ رہی تھی نہیں مارا تھا اسنے ہانیہ کو آج وہ خون کے آنسو رو رہا تھادوسری طرف تیمور اسکا دوست اسکا بھائی وہ ایسا کرسکتا تھا اسنے کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھایہ سوچنے سوچتے وہ پاگل ہوئے جارہا تھازویادروازہ ناک ہونے کے بعد رضیہ بیگم کی آواز کانوں میں ٹکڑائی تو اسنے اپنی سلگ ہوئی آنکھوں کو وا کیا کیا ہوا زویا تم ٹھیک تو ہو نا آج بریک فاسٹ بھی کرنے نہیں آئی رضیہ بیگم فکر مندی سے بولی تھی


مزید پڑھیں: قست نمبر

نہیں ماما بس سر میں درد ہےزویا آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی ٹھیک ہے میں ناشتہ لے کر اتی ہوں پھر دوائی لے لینالہجہ ہنوز فکرمندی والا تھانہیں ماما پلیز میرا دل نہیں ہےزویا کا لہجہ بے پرواہ تھاکیوں کدھر ہے دل رضیہ بیگم بے یقینی سے بولی بس ماما ویسے ہی زویا اکتائے ہوئے لہجے میں بولی ناصر کے پاس ہے دل رضیہ بیگم پیار بھری مسکراہٹ سمیت بولی ناصر کے نام پر زویا کی آنکھ سے آنسو گرا تھا

1 تبصرہ: