Latest Novels

جمعرات، 10 ستمبر، 2020

EpiSode 35 Nafrat Mohabbat Serf tumhii say Novels | last episode

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se

 Amara Mughal 

Episode 35

     Last Episode

EpiSode 35 Nafrat Mohabbat Serf tumhii say Novels | last episode





Nafrat

بالاج جیسے ہی روم میں داخل ہوا اس کی پہلی نظر آیت پر پڑیآ۔۔۔آیت بالاج کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا بولے پھر بھی اپنی پوری ہمت جمع کر کے بولا بالاج کی آواز پر آیت نے نظر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا آیت کی آنکھوں میں برف جیسا تاثر تھا میں جانتا ہوں میں معافی کے لائق نہیںتو پھربالکل اجنیت بھرا لہجہ تھا بالاج چونکا پشیمانی ایسی تھی کہ مقابل لڑکی سے نظریں نہیں ملانا چاہ رہا تھا آیت م۔۔۔مجھے معاف کر دوبالاج نظریں جھکاتا ہکلاتے ہوئے بولامیں کس حق سے آپ کو معافی دے دوں بالاج آپ کی وجہ سے میرے بابا اس دنیا سے چلے گئے آپ نے مجھے ان سے ملنے نہیں دیا اور وہ جدائی سہتے سہتے اس دنیا سے چلے گئے صرف آپ کی وجہ سےآیت چینختے ہوئے روتے ہوئے بولیپ۔۔۔۔پلیز آیت مجھے معاف کردو



اس کے سپاٹ تاثرات کو کرب سے دیکھتا بالاج دھیمی آواز میں التجا کیا لہجے میں درد کی بے پناہ آمیزش تھی مقابل کی آنکھوں میں حد سے زیادہ سرخ ڈورے اگر آیت نفرت کے پردے ہٹا کر دیکھتی تو ضرور کانپ جاتی میں معاف کر دوں آپکو؟۔ہنوز اجنیت بھرا انداز

Mohabbat

EpiSode 35 Nafrat Mohabbat Serf tumhii say Novels | last episode

بالاج کی ہمت جواب دی آنکھیں میں پشیمانی کی نمی لیے وہ آگے بڑھتا گھٹنوں کے بل آیت کے سامنے بیٹھا میں جانتا ہوں میں معافی کے لائق نہیں ہوں مجھے تمھارا اعتبار کرنا چاہیے تھا لیکن میں نے نہیں کیا مجھے معاف کر دو آیت کرب بھرے لہجے میں کہتا وہ آیت کے سپاٹ تاثرات دیکھ اور آگے ہوامیں تمھاری معافی کے لائق نہیں ہوں لیکن پلیز تم میرے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھو میں مر جائوں گااپنے الفاظ اسے رائیگاں لگ رہے تھے کیونکہ مقابل بیٹھی لڑکی اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو پلیز آیت ایسا رویہ مت رکھوتڑپ کر کہتا وہ آیت کے پاوں پر ہاتھ رکھا



مزید پڑھیں: قست نمبر

 



آیت فورا پیچھے ہوئی تھی

آپ میرے بابا کے قاتل ہے سوچنا بھی مت میں اپنے بابا جانی کا قتل معاف کروں گی نیلی آنکھوں میں غضب کا اشتغال تھا اس کے منہ سے الفاظ سنتا بالاج زمین پر گڑھتا گیا آج اسے احساس ہوا تھا اس لڑکی پر کیا گزری ہوگی تڑپ سے آنکھیں میچتا وہ آیت کو ان الفاظوں سے ملی تکلیف کو واضح محسوس کیا تھا میں نے تم پر ظلم کیا نا اسی کی سزا مجھے مل رہی ہے میرا بھائی میرا ہی دشمن نکلااسے بات بتاتا بالاج رونے کو ہوا تھا جس پر آیت تنفر سے دیکھ اپنا سر جھٹکی تم بتائو ایسا کیا کروں جس سے میری ذیادتیوں کا مداوا ہو

 

نم لہجے میں وہ اس کے سامنے فریاد کیا تھا اسے یوں دیکھ آیت کو بے ساختہ وہ وقت یاد آیا جب وہ اس کے سامنے فریادیں کرتی اسے بھوسہ دلاتی یقین دلاتی میں قاتل نہیں ہوں معافی چاہیے نہ آپ کو تو میرے بابا مجھے لا کر دے میں آپکو معاف کردوں گیآیت چینخی تھیبالاج کو کچھ سمجھنہیں آرہی تھی وہ کیا بولےمیں نے اپنے دل کو مضبوط بنایا تھا بالاج صرف آپ کیلئے آپ ایک دن مھھ پر بھروسہ کرے گئے یقین کرے گئے میں قاتل نہیں ہوں ہمارے رشتے میں تو بھروسہ چلتا تھا آپ نے میرے ساتھ اتنا ٹائم گزارا لیکن آپ کو مجھ پر بھروسہ نہ آیا کیا یہ تھی آپ کی محبت


آیت

بالاج مزید کچھ بولتا آیت نے بالاج کی بات کاٹیآج سچ سب کے سامنے آگیا تو آپکو غلطی کا احساس ہو گیا جب مارخ نے تیمور بھائی کا نام لیا تو آپ نے یقین نہیں کیا آپ نے سچ جانا تیمور کو کوئی پھنسا رہا ہے اگر آپ نے اسکا یقین نہیں کیا تو میرا کیسے کرلیا میں کیوں کروں گی ہانیہ کا قتل کیوں ماروں گی اسے وہ میری بھابھی بنے لگی تھی میرے بھائی کی محبت تھی میں کیوں کروں گی ایسے آپ نے ایک دفع بھی غور نہ کیا نہ مجھ پر یقینآیت نم لہجے میں بولتے جارہی تھیآپ نے مجھ سے زبردستی کی میں کچھ نہیں بولی ہر ظلم سہتی رہی کیونکہ مجھے اللہ پر پورا یقین تھا وہ ایک نا ایک دن مجھے بے گناہ ضرور ثابت کرے گا اور اللہ نے مجھے بے گناہ ثابت کیا


میں چاہتی تھی آپ مجھ پر بھروسہ کرے سچ کو جانے لیکن آپ نے نہیں کیا آپ نے میرے بابا کو مجھ سے چھین لیا میرے اندر سے آپ نے محبت ختم کردیآیت کہ کر فورا کمرے سے بھاگ گئی بالاج نے بھی فورا باہر کا رخ کیا



Novel

 شام کو جب ناصر گھر لوٹا جیسے ہی روم میں داخل ہوا تو سامنے زویا کو بیڈ پر لیٹا ہوا پایا رضیہ بیگم نے اسے بتایا تھا اسکی صبح سے طبیعت خراب ہے وہ جانتا تھا اسکی اصل وجہ وہ خود ہے ناصر کو دیکھتی اسنے دوسری طرف کروٹ بدلی تھیناصر فریش ہونے کے لیے آرام دہ کپڑے نکالتا فریش ہونے کے لیے گھس گیا پندرہ منٹ وہ نکلا تو زویا کے پاس آکر بیٹھا زویا چونکی تھی اسکے بیٹھنے پر اور پھر جلدی سے بیڈ پر سے اٹھنے لگی ناصر زویا کو یوں اٹھتے دیکھ اسکا ہاتھ پکڑا تھا میں جانتا ہوں کل میں نے جو کیا وہ بہت غلط تھا مجھے معاف کردوناصر نظریں جھکائیں بولا تھا


زویا بے یقینی سے بالاج کو دیکھنے لگی کیا یہ ناصر ہےچٹکی کاٹےزویا ناصر کے سامنے ہاتھ کرتی بولی ناصر حیرت سے دیکھنے لگا یہ کیا بول رہی ہے چٹکی کاٹےزویا ایک بار پھر بولی تھی پاگل ہو گئی اگر ہو گئی ہو تو پاگل خانے چھوڑ کر آتا ہوں وہی پر کروناصر تیز اواز میں بولاتو اپ ناصر ہی ہےزویا خوش ہوتے ہوئے بولی پگلا گئی ہوناصر زویا کو دیکھتے ہوئے بولی ہاں تو اپ کیا بول رہے تھے مجھے معاف کردوناصر نے ایک بار پھف معافی مانگی تھی مجھے آپکی معافی نہیں پیار چاہیے زویا نم آنکھوں سے بولی تھیزویا کی بات پر ناصر نے نظریں اٹھائی تھی ,آپ دے گئے نا مجھے پیار۔ زویا ایک بار پھر بولی


میں ہانیہ سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا لیکن میں کوشش کروں کا تمھارے حق تمھیں دے سکوں تمھیں پیار دے سکوں عزت دے سکوں جس کی تم حقدار ہوناصر کہتے ہوئے زویا کو گلے لگا کر پرسکون کر گیا تھا ہیلوآیت فون اٹھاتے ہوئے بولی کیا آپ مسسز بالاج بول رہی ہےدوسری طرف سے آواز ابھری آیت کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوابالاج سر کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے میں انھیں ہاسپل لے آیا ہوں سر کی حالت بہت خراب ہےآیت کے سر پر بم پھٹا تھا آسمان جیسے اس کے سر پر آن گرا ہو*مکمل داستان کہہ دوں کہ اتنا ہی کافی ہےتم ہی تم تھے، تم ہی تم ہو، تم ہی تم رہو گے



بالاج کا سنتے ہی وہ فورا ہاسپٹل پہنچی تھی ڈاکٹرز اوپریشن تھیٹر میں تھے آیت کو آئے آدھہ گھنٹہ ہ گیا تھا اب تک بالاج کی صحت یابی کی کوئی خبر نہیں تھی آیت کون ہے پیشنٹ انھیں بلارہے ہے نرس باہر نکلتی جلدی سے بولی م۔۔۔میں ہوں آیت نرس کو دیکھتی ہکلاتے ہوئے بولی جلدی چلے اندرنرس جلدی سے بولتی اندر چلی گئی آیت لڑکھڑاتے ہوئے اندر روم میں گئی جب ااسکی نظر بالاج پر پڑی تو اسکی آنکھیں دھندھلانے لگی بالاج پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا


بالاج ہاتھ کے اشارے سے آیت کو بلانے لگا آیت فورا بالاج کی طرف بھاگی م۔۔میرے پاس وقت بہت کم ہے آیت مجھے معاف کردو تاکہ میں سکون سے مر سکوںبالاج ہکلاتے ہوئے بول رہا تھاآپ کہی بھی نہیں جایے گئے آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتےآیت روتے روتے بول رہی تھیتم نے مجھے معاف کیابالاج ایک بار پھر ہکلاتے ہوئے بولاہاں میں نے آپ کو معاف کیاآیت نم آنکھیں لیے بولیاپنا خیال رکھنا میرے بے بی کا بھی خیال رکھنا بیٹا ہوا تو صارم نام رکھنا بیٹی ہوئی تو دعا رکھو گی نا بالاج آیت کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولانہیں آپ خود اپنے بے بی کا نام رکھے گئے۔۔۔۔۔۔۔آیت نفی میں سر ہلاتے ہوئے روتے ہوئے بولیمجھے معاف کردینابالاج کا ہاتھ چھوٹا تھاب۔بالاج آیت کی چینخ نکلی تھی 


Sorry he is no more

ڈاکٹر کی بات پر آیت دنیا سے بے گانہ ہو گئی مرے خوابِ الفت کی تعبیر لا دومجھے قید کرلے وہ زنجیر لا دو یقینِ محبت کی یہ شرط کیسیوہ کہتا ہے پانی پہ تحریر لا دو



4 تبصرے:

  1. Yar Mana k Balaaj hmy pasand ni tha q k us ny Ayat k sath bht galt kia tha lkn iska ye mtlb ni k ap usy Mar hi deti sis
    Bechari Ayat k pas Kia rha na us k baba na hi Balaaj
    Iski ending khamoshian novel jesi hoi tb b ma esy hi upset hoi thi lkn uska season 2 a gia tha or phr happy ending hogi plz Yar last epi ki part 2 dy dy

    جواب دیںحذف کریں
  2. Ye kesa end howa bhala blaj KO mar hi diya yrrr ayat per kya guzri asko akela hi kr diya hai apny phely bab aur ap sohar don't like this end bhot hands howa hai apka phela novel tha aur wo bhi sad end mn to Ab apka koi novel ni phrho ghi

    جواب دیںحذف کریں
  3. Ye kesa end howa bhala blaj KO mar hi diya yrrr ayat per kya guzri asko akela hi kr diya hai apny phely bab aur ap sohar don't like this end bhot hands howa hai apka phela novel tha aur wo bhi sad end mn to Ab apka koi novel ni phrho ghi

    جواب دیںحذف کریں
  4. Yr Aapka page like nhi horaha or Nahi koi comment Kiya jaaraha apna page correct krlein or new Novel start krlein ☺️☺️

    جواب دیںحذف کریں