Latest Novels

جمعہ، 18 ستمبر، 2020

EPISODE_3 Samundar mein kinara tu by HANIA BUKHARIII

 SAMUNDAR MEIN KINARA TU BEAST


HANIA BUKHARIII

EPISODE_3 Samundar mein kinara tu by HANIA BUKHARIII

EPISODE_3

  یعنی اک شخص مجھے ارض و سما جیسا تھااک ہی شخص پہ مرکوز تھی دنیا میری  پانچ منٹ ہی ہوئے تھے اسے روم میں بیٹھے لیکن آفندی صاحب کا کوئی نام و نشاں نہیں تھا غصے میں وہ خان کی طرف دیکھ رہا تھاآفندی کو نہیں پتا مجھے لیٹ آنے والے لوگ نہیں پسند سخت گھوری سے نوازتا وہ خان سے بولا تھاج۔۔۔جی سر پتا نہیں وہ کیوں نہیں آئے خان ڈرتے ہوئے نظریں جھکا کر بولا تھامیں یہ ڈیل کینسل کرتا ہوں برف جیسا تاثر لیے وہ خان سے مخاطب ہوا تھا لیکن سر یہ میٹنگ بہت اہم ہےخان ڈرتے ہوئے بولا تھا ذوالقرنین کو پسند نہیں کوئی اسے انتظار کروائےوہ کہتا روم سے باہر نکل گیا تھا


بجو

آپ کہاں ہے پلیز مجھے بچا لےاس شخص نے جیسے ہی حوری کے سر سے حجاب اتارا تھا وہ چلاتے ہوئے بولی تھی ذوالقرنین جو اس روم سے گزر ہی رہا تھا کسی کی رونے کی آواز  اسکے کانوں سے ٹکڑائیبجو پلیز مجھے بچالے۔۔۔۔۔۔ایک بار پھر حوری چلائی تھی اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی ذوالقرنین نے خان کی طرف اشارہ کیا تھا اور وہ اس کی بات پر عمل کرتے ہوئے دو منٹ کے اندر چابیاں لے آیا ذوالقرنین نے جیسے ہی روم کا دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کو تپ چڑھ گئی لڑکی کے بازو پھٹے ہوئے  دیوار کے ساتھ چپکی اونچی آواز میں رو رہی تھی  اور وہ دونوں ہاتھوں سے  اپنے پھٹے بازوئوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی تھی سر نیچے ہونے کی وجہ سے ذوالقرنین اس کا چہرہ دیکھ نہ پایا تھا اور آدمی دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہنس رہا تھا اسکی نیلی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ لال ہو گئی تھی 


مزید پڑھیں: قست نمبر

خان ذوالقرنین کا روپ دیکھ کر سہم گیا تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا نہ یہ ذوالقرنین سکندر تمھاری زندگی موت سے بھی بدتر بنا دے گااس نے غراتے ہوئے کہا اس لڑکے کا رنگ فق پڑا اور اسکی دھاڑ سن کے حوری کا سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا تم دور رہو ہو کون تم یہ میرا اور اس لڑکی کا معاملہ ہےہمت کر کے وہ شخص بولا تھا حوری کی ہنوز نظریں جھکی تھی اب وہ رونا بھول گئی تھی کیا کہا تم نے تمھیں میری بات سمجھ نہیں آئی ذوالقرنین غصے سے بڑھتے ہوئے بوئے بولا تھا ذوالقرنین کو اتنے غصے میں دیکھ کر اس شخص نے اپنے قدم پیچھے بڑھائے تھے ذوالقرنین ایک سو بیس کی سپیڈ سے اس کے پاس پہنچتے اس کے منہ پر گھونسے پہ گھونسہ مارتا گیا۔ذوالقرنین کی آنکھوں سے لہوں ٹپک رہا تھاپ۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کردوذوالقرنین کے سامنے وہ اپنا بچائو بھی نہ کر سکا سر پلیز رک جائے آپ چھوڑ دے میں اسے دیکھتا ہوں خان آگے بڑھتے ہوئے ڈرتے ہوئے بولا 


خان تم پیچھے رہو۔۔۔۔۔۔۔

EPISODE_3 Samundar mein kinara tu by HANIA BUKHARIII


ذوالقرنین خان کو غصے سے گھورتے ہوئے بولاسر پلیز اسے چھوڑ دے میں دیکھ لیتا ہوں۔خان پھر بولا تھا ذوالقرنین نے غصے سے لات مار کر اس شخص کو چھوڑا تھاچلوخان غصے سے اس شخص کو پکڑتا باہر نکل گیاآپ یہاں پر کیا کررہی ہے آ جاتی ہے اپنی عزت کو پا مال کرنے پھر ٹسوے بہاتی ہے۔وہ غصے سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا حوری نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا تھاذوالقرنین اسکے چہرے کو دیکھ ٹھٹکا تھاوہ جو کوئی بھی تھی اسکی عمر اٹھارہ سے زیادہ نہ تھی  اسکے برائون بال آبشار کی طرح بکھرے تھے وہ وائٹ یونیفارم میں ملبوس تھی اور تب اس کے دل نے پہلی بار گواہی دی تھی کہ سفید رنگ آج ہی کسی پہ جچتے دیکھا ہے اپنی زندگی میں اسکے چہرے پر اتنی ملائمت تھی کہ ایک پل کو اسکا دل کیا کہ وہ اسے محسوس کرے  اور پھر اپنی سوچ پر عمل کرتے ہوئے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایااور دھیرے سے اسکے آنسو صاف کرنے لگااسکی اس حرکت پر وہ سانس روک کر رہ گئی اور آنکھیں پھاڑیں اسے دیکھنے لگی 


اسکی آنکھوں میں خوف تھا  وہ ابھی تک اس کے بازو کے حلقے کے قید میں تھی ذوالقرنین نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے گرد لپیٹا تھا اور نیچے سے حجاب اٹھا کر اس کے سر پر رکھا تھا وہ اپنا ضبط کھوتی اسکے کشادہ سینے سے جا لگی۔۔۔روم میں آئے خان کو جھٹکا لگا تھا ذوالقرنین سکندر وہ بھی کسی لڑکی کے پاس اور اتنے قریب وہ اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی م۔۔میں ن۔۔نہیں آئی تھی وہ وہ اسکی شرٹ کو مٹھیوں سے جکڑے بول رہی تھی اس کے نرم ملائم ہونٹ اپنے سینے پر محسوس ہورہے تھے ذوالقرنین سکندر کو اتنے عرصے بعد آج دل میں سکون اترتا محسوس ہوا  تھا کاندھا میرا اور سر تیرا پاگل سی چپ تم اور میں وہ بھول چکی تھی وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔وہ بھول چکی تھی کہ وہ کسی اجنبی کے سینے سے لگی رو رہی ہےوہ اپنے سکتے سے باہر نکلتا اس کے بال سہلانے لگش۔۔۔ش چپ ہو جائیں کچھ بھی نہیں ہوا سب ٹھیک ہےذوالقرنین خان کی موجودگی سے بے خبر تھااسے ہوش تب آیا جب وہ روتے روتے بیہوش ہو کر اس کی بانہیں میں جھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔



خان

وہ اس کے گال تھپتھپانے کے ساتھ خان کو پکارنے لگاج۔۔۔جی سرخان ہوش میں آتے ہوئے فورا ذوالقرنین کے پاس پہنچا گاڑی نکالووہ بنا خان کو دیکھے بولا اور اسکو بانہوں میں اٹھائے باہر کی جانب دوڑ لگا دیایمن تم اتنی پریشان کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔آہل جو ایمن کو تنگ کرنے کے بہانے باہر نکلا تھا ایمن کو یوں پریشان زیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا تم سے مطلب۔۔۔۔۔۔۔ایمن آہل کو دیکھتی روکھے انداز میں بولی تھی یہ تو تم ہر وقت مطلب کی بات کرتی رہتی ہو بڑی مطلبی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔آہل معصومیت سے بولا تھاایمن نے ابرو اچکا کے آہل کع رئیلی کا تاثر دیا تھاآیل نے فورا نفی میں سر ہلایا تھایار تم مجھ سے اتنی چڑتی کیوں ہوآہل لہجے میں حیرانگی سموئے ایمن سے پوچھنے لگاکیونکہ تم پاگل ہو اور مجھے پاگل لوگوں سے چڑ ہےایمن لہجے میں طنز لیے بولی


یار تمھیں کیسے پتا چلا میں پاگل ہوں پھٹی پھٹی آنکھیں کھولے وہ ایمن سے مخاطب ہواایمن نے اپنا سر پیٹا تھامیں حیران ہوں تم سر کے دوست ہو وہ اتنے میچور اور خود کو دیکھوایمن حیرانگی سے بولی تھی بس دیکھ لوآہل نے فخریہ اپنے کالر جھاڑے تھےاچانک ایمن کی نظر موبائل پر پڑی جس میں حوری کی پک لگی تھی حوری تم ٹھیک تو ہو نہ میرا دل اتنا کیوں گھبرا رہا ہےایمن نے دل پی دل میں سوچا تھا اس کے چہرے پر پریشانی صاف واضح دکھ رہی تھی ایمن تم ٹھیک ہوآہل فکر مندی سے پوچھا تھاتم یہاں پر کیا کررہے ہوایمن ایک بار پھر غصے سے بولی تھی یار میں تو اسے ڈھونڈ رہا ہوں پتا نہیں کیاں غائب ہو گئی ہے


 کس کو ڈھونڈ رہے ہووہ جو کھو گئی ہےکون کھو گئی ہےیار پتہ نہیں کدھر چلی گئی کون چلی گئی وہ جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں کیوں پہیلیاں بجوا رہے ہو میں چلی جائوں گی یہاں سےیار وہ بھی چلی گئی ہے اب تم بھی چلی جائو گی کون اب کی بار ایمن غصے سے چلائی تھی تمھاری سمائل آہل شرارتی انداز میں بولا تھا



SAMUNDAR MEIN KINARA TU (BEAST)

HANIA BUKHARIIi

EPISODE_3 Samundar mein kinara tu by HANIA BUKHARIII


EPISODE_4

کتنے سادہ ہیں فقیروں کے عقیدے مرشد دیکھ لینے کو لاقات سمجھ لیتے ہیں ٹینشن لینے کی کوئی بات نہیں کمزوری اور صدمے کے باعث وہ بیہوش ہو گئی تھی کچھ دیر بعد ہوش میں آ جائے گاڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتی جا چکی تھیذوالقرنین کے دل کو سکون پہنچا تھاان کی ساری ڈیٹیلز نکلوائو اور ان کے گھر والوں کو انفارم کر دوذوالقرنین خان کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولاجی سر۔خان نظریں جھکائیں بولا تھاذوالقرنین روم میں داخل ہوا تو اس کی نظر حور پر ٹہر گئی ذوالقرنین کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی وہ چلتا ہوا اس کے قریب بیٹھ گیا اور اسکو سوتے ہوئے دیکھنے لگا دل کررہا تھا یہ وقت کبھی نہ ختم ہو وہ اسے یوں ہی پوری زندگی دیکھتا رہے گلابی ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست تھے ا ور نچلے ہونٹ کے نیچے زرا فاصلے پر چھوٹا سا تل۔۔۔۔۔۔



 ذوالقرنین نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے  ہونٹوں کو چھوا تھا اور پھر اسکے تل کو اب اسکی نظر سلکی بھورے بالوں پر گئی جو ماتھے پر بکھرے تھے ذوالقرنین نے ہاتھ بڑھا کے پیچھے کیے تھے اب اس کی سفید پیشانی سامنے تھی ذوالقرنین یہ تمھیں کیا ہورہا ہے کیوں تو اس لڑکی کو دیکھا جارہا ہےذوالقرنین نے دل میں سوچا تھا وہ جیسے ہی اٹھنے لگا لیکن پھر بیٹھ گیا دل انکاری تھا اسکے پاس سے اٹھنے کوذوالقرنین سکندر ہے تو ذوالقرنین سکندر کے پیچھے لڑکیاں مرتی ہے نہ کے ذوالقرنین لڑکیوں پرذوالقرنین نے دل ہی دل میں سوچا تھا


ہوش میں آتے ہی وہ چلانے لگی اور بازو میں لگی ڈرپ کی سوئی اتار کے پھینک دی بجو پلیز بچالےآنکھیں بند کیے وہ چلارہی تھی ذوالقرنین ایکدم ہوش میں آیا تھاآنکھیں کھولیں دیکھیں آپ ٹھیک ہےذوالقرنین حوری کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولاکسی کی نگاہوں کی تپش اور لمس سے اسے ہوش کی وادیوں میں لیکر آئی اسنے جھٹ  سے آنکھیں کھولی تھی گزا لمحہ اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا آمنہ کا اسے ہوٹل میں چھوڑنا پھر اس انجان شخص کا بچاناآخری خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ پھرتی سے اٹھی لیکن سامنے نظر پڑتے ہی وہ رک گئی


اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے ایمن کا چہرا لہرایا اور اس کے الفاظ کانوں سے ٹکڑائے تھےسب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں اس پہ نظر پڑتے ہی خوف کی ایک سرد لہر اسکے رگ و پے میں داخل ہو گئی وہ اٹھ کے دروازے کی اور بڑھنے لگی جب اسکی پرسکون آواز نے اسکے قدم جمادیےآپ کہاں بھاگ رہی ہےاسکی بات پہ تھم گئی اور طیش کی ایک لہر اسکے اند دوڑ گئی اتنے میں خان بھی روم میں داخل ہو گیامیں بھاگ نہیں رہی گھر جانا ہے پلیز مجھے جانے دووہ غصے سے بولتی سسک پڑی خان ہکا بکا اس لڑکی کو دیکھنے لگا ایک تو بچایا اوپر سے یہی غلط سمجھ رہی


تمھاری ہمت

تمھاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی اسکی  آنکھوں میں دہشت تھی سامنے والوں کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی

پ۔۔۔پلیز مجھے معاف کردوسامنے والے کے ڈر سے وہ گر گرایا معافی کی کوئی گنجائش نہیں تم نے اسے چھو کے گناہ کیا ہےبرف جیسا تاثر لیے وہ اس سے مخاطب ہواپ۔۔۔پلیز آئندہ میں نہیں کروں گا پلیز مجھے چھوڑ دواب کی بار وہ شدت سے روتے ہوئے بولاتم جانتے ہو میں کون ہوں کمرے میں گپ اندھیرے کی وجہ سے وہ صرف اسکی آواز سن سکتا تھا ہاں میں جانتا ہوں تم بیسٹ ہو ایک سنگدل وہ روتے ہوئے بولا تھا



کمرے میں ہر طرف اسکے ہنسنے کی آواز گونجنے لگی پلیز مجھے معاف کردوسامنے والی کی ہنسی دیکھ کر وہ خوف میں مبتلا ہو گیا اسکے ہاتھ پاؤں پھولنے لگےبیسٹ معاف کرنا نہیں جانتا وہ بس سزا دینا جانتا ہے جس کے تم حقدار ہووہ سرد تاثر اپنائے اس سے مخاطب ہواپ۔۔پلیز اسکو کچھ بولنے کا موقع دیے وہ بلیڈ سے اسکی گردن کاٹ چکا تھاسامنے والے ہاتھ بالکل بھی نہ کانپے تھے کمرے میں اس شخص کی دل خراش چینخے تھی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں