Latest Novels

اتوار، 20 ستمبر، 2020

Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se novel last episode part 2

 Nafrat Mohabbat Sirf tumhe se

 Amara Mughal


EpiSode 35

www.novelasfacebook.com


( last episode)Part 2❤


☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆



 میت کب گئی تدفین کے لیے اسے کچھ ہوش نہ تھا اور ہوتا بھی کیسے وہ اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھی خود میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اٹھ کہ آخری نظر اس ستمگر کو دیکھ لیتی بالاج کی موت اس پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی


آس پاس کے لوگوں میں کئی باتیں ہورہی تھی لیکن وہ سب سے بے بہرہ اپنی دنیا میں گم تھی


AYATآیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر کی بھاری آواز نے اسے سوچوں کی محور  سے ہوش کی دنیا میں دھکیلا چونک کر وہ سر اٹھاتی


تو کیا وہ تدفین کر کے آچکے تھے وہ لوگ تڑپ کر روتا دل ایک اور مرتبہ کر لایا یہ سوچ کر ہی،اور سر جھکائے وہ اپنا رونا ضبط کرنے لگی


کاش وہ اسے اپنے لفظوں سے نہ توڑتی 


آیت گھر چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کی بار پھر ناصر نے آیت کو مخاطب کیا 


نہیں بھائی میں یہی رہوں گی


ناصر آگے سے کچھ بولنے ہی لگا تھا زویا نے اشارے سے ناصر کو چپ کروادیا



●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●


آج ایک ہفتہ گزر چکا تھا آیت ہنوز سکندر ولا میں بند رہنے لگی تھی گھر والے سب اس سے ملنے آتے مگر اسکو گہری چپی لگی تھی اور لگتی بھی کیوں نہ اس کی پوری دنیا اندھیرے میں ڈوب چکی تھی


کیا نہیں تھا اسکی چپ میں غم تکلیف کی انتہا اذیت و کرب


زوم میں کوئی داخل ہوا تھا آیت کے دل نے شدت سے دعا کی تھی کاش یہ بالاج ہو اور بولے آیت میں آگیا ہوں


آیت نے جیسے ہی اوپر نظریں اٹھائی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ کئیں ایک پل کو اسے پوری دنیا رکتی ہوئی لگی وقت مہینے سال جیسے تھم چکے تھے سانس جس قدر روکی تھی وہ خوبصورت چہرہ بری طرح سرخ ہوا اور جھٹکے سے سانس کھینچتی وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پے رکھتی بے یقینی سے دیکھنے لگی وہ ہر ناممکن بات پر یقین کر لیتی لیکن ابھی جو ہوا اس پر یقین کرنا محال تھا وہ ستمگر اسکے سامنے کھڑا تھا 


بالاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ISKAY LAB PAR PARAY TH

اسکے لب پھڑپھڑائے تھے

novelasfacebook



دوسری جانب چند لمحے اسکی بکھری حالت دیکھنے کے بعد باریک لبووں پر نہایت مدھم سی مسکراہٹ پھیلی تھی وجیہہ چہرہ زرد مائل ہو چکا تھا جس پر تکلیف کے اثرات اب بھی رقم تھے


اسے اداسی سے مسکراتے دیکھ نیلی آنکھوں سے تیزی سے ایک آنسو گال پر آکر پھسلا اور خوشی و بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں آیت بنا کچھ سوچے سمجھے تیزی سے قدم بڑھاتی بالاج کے سامنے کھڑی ہوئی اور بالاج کو بولنے کا بنا موقع دیے وہ اسے گلے لگائے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی بالاج ششد رہ گیا تو کیا وہ اس سے ناراض نہیں تھی



بے ساختہ اسے اپنے آپ پر غصہ آیا ذہن میں وہ وقت گردش کیا تھا جب اسے ہوش آیا تب اسنے خود کو ہاسپٹل میں پایا تھا


وہ آیت کو اور دکھ نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے جان بوجھ کر اسنے خود آپنی کار کے ساتھ ٹریلے کی ٹکڑ لی


لیکن قسمت بھی نا اسے پھر سے نئی زندگی مل گئی


اس لیے اسنے مرنے کا ناٹک کیا تاکہ وہ اس کی زندگی سے بہت دور چلا جائے لیکن آیت کی جدائی اسے پھر سے آیت کے پاس لے آئی وہ آیت کے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیے اسنے سوچا تھا جب تک آیت اسے معاف نہیں کرتی وہ پیچھے نہیں ہٹے گا اسکا سارا غصہ ختم کردے گا


BALAJ MEIN APP KY  BAGAIR NEIN RA SAKTI

بالاج میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔۔

اپنے سینے میں منہ چھپائے آیت کی آواز نے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لایا آسودگی سے مسکراتا بالاج اسکے گرد اپنے دونوں بازوئوں کو حائل کیا


اس ایک ہفتے کی تکلیف ہر اس تکلیف سے بڑھ کر تھی جو ان سالوں میں مجھ پر بیتی۔۔۔۔۔۔۔

آیت کے بھیگے لہجے پر وہ جھک کر نرمی سے اسکی پیشانی چوما


وعدہ کرتا ہوں تمھاری ہر تکیف کا مدوا اپنی محبت سے کروں گا خبردار جو تم نے میری خوبصورت نیلی آنکھوں پر ظلم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جذبات سے چور لہجے میں نہایت میٹھی سرگوشی کرتا وہ آیت کے گرد بازوئوں کا حصار بنا کر بولا


مقابل کے اس وعدے نے جس قدر اسے سرشار کیا وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن تھا



●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●


دو سال بعد


MUJY BHOUT DAR LAG RHA HA NASIR

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ناصر۔۔۔۔۔




ناصر کو دیکھتی وہ روتے ہوئے بولی


ناصر کو وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی ماں بننے کا نور اسکے چہرے پر تھا وہ معصوم سی لڑکی 


ڈرنے کی کیابات ہے میں ہوں نا۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر زویا کو تسلی دیتے ہوئے بولا جو ڈیلیوری کی ڈیٹ نزدیک آنے پر خوفزدہ ہورہی تھی


یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

زویا منہ بسورتے ہوئے بولی


میری وجہ سے توبہ کرو لڑکی پانچ مہینے ہوگئے ہے ہاتھ بھی نہیں لگایا تمھیں ۔۔۔۔۔۔۔

ناصر مزاقیہ انداز میں بولا تھا


آپ بہت گندے ہے۔۔۔۔۔۔

زویا بولی تھی


اب جیسا بھی ہوں تمھارا ہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔

ناصر مسکرایا تھا اسکے بلش ہوئے چہرے کو دیکھ 



●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●


آئینے کے سامنے کھڑی وہ خود کو دیکھنے میں مصروف تھی جب پیچھے سے بالاج نے اسے اپنے حصار میں لیا


بہت پیاری لگ رہی ہو میری جان ۔۔۔۔۔۔۔

میٹھے انداز میں بولتا وہ اسکے کانوں میں رس گھول چکا تھا


اپنی طرف رخ کرتا وہ جیسے ہی اسکے ہونٹوں پر جھکا بچوں کے رونے کی اواز ان دونوں کو حال میں لے آئی


نرمی سے وہ دونوں کو اٹھاتا پیار خرنے لگا اللہ تعالی نے انھیں دو بیٹیوں سے نوازا تھا بالاج ان دونوں کو لے کر بہت حساس تھا


ان تینوں کو پیار سے دیکھتی وہ اللہ کا شکر ادا کرنے لگی ان دو سالوں میں بالاج نے اسے اتنا پیار دیا کہ غم کے بادلوں کو ہٹا کر ایک پرسکون اور سجل جیسا بادل دیا


THE END

1 تبصرہ:

Please do not enter any spam link in the comment box.