Latest Novels

ہفتہ، 19 ستمبر، 2020

Samundar mein kinara tu novel by HANIA BUKHARIII

 SAMUNDAR MEIN KINARA TU (BEAST💀)


HANIA BUKHARIII

Samundar mein kinara tu novel by HANIA BUKHARIII


EPISODE_3


♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡


Don't copy paste without my permission🙂🙂


💕 اک ہی شخص پہ مرکوز تھی دنیا میری 💕

💕 یعنی اک شخص مجھے ارض و سما جیسا تھا 💕


پانچ منٹ ہی ہوئے تھے اسے روم میں بیٹھے لیکن آفندی صاحب کا کوئی نام و نشاں نہیں تھا غصے میں وہ خان کی طرف دیکھ رہا تھا


آفندی کو نہیں پتا مجھے لیٹ آنے والے لوگ نہیں پسند۔۔۔۔۔۔

سخت گھوری سے نوازتا وہ خان سے بولا تھا


ج۔۔۔جی سر پتا نہیں وہ کیوں نہیں آئے۔۔۔۔۔۔۔۔

خان ڈرتے ہوئے نظریں جھکا کر بولا تھا


میں یہ ڈیل کینسل کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔

برف جیسا تاثر لیے وہ خان سے مخاطب ہوا تھا


لیکن سر یہ میٹنگ بہت اہم ہے۔۔۔۔۔۔

خان ڈرتے ہوئے بولا تھا


ذوالقرنین کو پسند نہیں کوئی اسے انتظار کروائے۔۔۔۔۔۔

وہ کہتا روم سے باہر نکل گیا تھا


بجو۔۔۔۔۔۔۔
بجو۔۔۔۔۔۔۔

آپ کہاں ہے پلیز مجھے بچا لے۔۔۔۔۔۔

اس شخص نے جیسے ہی حوری کے سر سے حجاب اتارا تھا وہ چلاتے ہوئے بولی تھی


ذوالقرنین جو اس روم سے گزر ہی رہا تھا کسی کی رونے کی آواز  اسکے کانوں سے ٹکڑائی


بجو پلیز مجھے بچالے۔۔۔۔۔۔

ایک بار پھر حوری چلائی تھی اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی


ذوالقرنین نے خان کی طرف اشارہ کیا تھا اور وہ اس کی بات پر عمل کرتے ہوئے دو منٹ کے اندر چابیاں لے آیا


ذوالقرنین نے جیسے ہی روم کا دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کو تپ چڑھ گئی لڑکی کے بازو پھٹے ہوئے  دیوار کے ساتھ چپکی اونچی آواز میں رو رہی تھی  اور وہ دونوں ہاتھوں سے  اپنے پھٹے بازوئوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی تھی سر نیچے ہونے کی وجہ سے ذوالقرنین اس کا چہرہ دیکھ نہ پایا تھا اور آدمی دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہنس رہا تھا اسکی نیلی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ لال ہو گئی تھی 


خان ذوالقرنین کا روپ دیکھ کر سہم گیا


تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا نہ یہ ذوالقرنین سکندر تمھاری زندگی موت سے بھی بدتر بنا دے گا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے غراتے ہوئے کہا


اس لڑکے کا رنگ فق پڑا اور اسکی دھاڑ سن کے حوری کا سانس سینے میں اٹک کر رہ گیا


تم دور رہو ہو کون تم یہ میرا اور اس لڑکی کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔۔

ہمت کر کے وہ شخص بولا تھا


حوری کی ہنوز نظریں جھکی تھی اب وہ رونا بھول گئی تھی


کیا کہا تم نے تمھیں میری بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین غصے سے بڑھتے ہوئے بوئے بولا تھا


ذوالقرنین کو اتنے غصے میں دیکھ کر اس شخص نے اپنے قدم پیچھے بڑھائے تھے


ذوالقرنین ایک سو بیس کی سپیڈ سے اس کے پاس پہنچتے اس کے منہ پر گھونسے پہ گھونسہ مارتا گیا۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین کی آنکھوں سے لہوں ٹپک رہا تھا


پ۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔

ذوالقرنین کے سامنے وہ اپنا بچائو بھی نہ کر سکا


سر پلیز رک جائے آپ چھوڑ دے میں اسے دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔

خان آگے بڑھتے ہوئے ڈرتے ہوئے بولا 


خان تم پیچھے رہو۔۔۔۔۔۔۔

novelasfacebook


ذوالقرنین خان کو غصے سے گھورتے ہوئے بولا


سر پلیز اسے چھوڑ دے میں دیکھ لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔

خان پھر بولا تھا


ذوالقرنین نے غصے سے لات مار کر اس شخص کو چھوڑا تھا


چلو۔۔۔۔۔۔۔۔

خان غصے سے اس شخص کو پکڑتا باہر نکل گیا


آپ یہاں پر کیا کررہی ہے آ جاتی ہے اپنی عزت کو پا مال کرنے پھر ٹسوے بہاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے اسکی طرف دیکھ کر بولا تھا 


حوری نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا تھا


ذوالقرنین اسکے چہرے کو دیکھ ٹھٹکا تھا


وہ جو کوئی بھی تھی اسکی عمر اٹھارہ سے زیادہ نہ تھی  


اسکے برائون بال آبشار کی طرح بکھرے تھے وہ وائٹ یونیفارم میں ملبوس تھی اور تب اس کے دل نے پہلی بار گواہی دی تھی کہ سفید رنگ آج ہی کسی پہ جچتے دیکھا ہے اپنی زندگی میں 


اسکے چہرے پر اتنی ملائمت تھی کہ ایک پل کو اسکا دل کیا کہ وہ اسے محسوس کرے  اور پھر اپنی سوچ پر عمل کرتے ہوئے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا


اور دھیرے سے اسکے آنسو صاف کرنے لگا


اسکی اس حرکت پر وہ سانس روک کر رہ گئی اور آنکھیں پھاڑیں اسے دیکھنے لگی 


اسکی آنکھوں میں خوف تھا  


وہ ابھی تک اس کے بازو کے حلقے کے قید میں تھی


ذوالقرنین نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے گرد لپیٹا تھا اور نیچے سے حجاب اٹھا کر اس کے سر پر رکھا تھا 


وہ اپنا ضبط کھوتی اسکے کشادہ سینے سے جا لگی۔۔۔۔۔


روم میں آئے خان کو جھٹکا لگا تھا ذوالقرنین سکندر وہ بھی کسی لڑکی کے پاس اور اتنے قریب۔۔۔۔۔


وہ اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی 


م۔۔میں ن۔۔نہیں آئی تھی وہ۔۔۔۔۔۔

وہ اسکی شرٹ کو مٹھیوں سے جکڑے بول رہی تھی اس کے نرم ملائم ہونٹ اپنے سینے پر محسوس ہورہے تھے 


ذوالقرنین سکندر کو اتنے عرصے بعد آج دل میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا


کاندھا میرا اور سر تیرا 

پاگل سی چپ تم اور میں 


وہ بھول چکی تھی وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔

وہ بھول چکی تھی کہ وہ کسی اجنبی کے سینے سے لگی رو رہی ہے 


وہ اپنے سکتے سے باہر نکلتا اس کے بال سہلانے لگا


ش۔۔۔ش چپ ہو جائیں کچھ بھی نہیں ہوا سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین خان کی موجودگی سے بے خبر تھا


اسے ہوش تب آیا جب وہ روتے روتے بیہوش ہو کر اس کی بانہیں میں جھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خان ۔۔۔۔۔۔

خان۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے گال تھپتھپانے کے ساتھ خان کو پکارنے لگا


ج۔۔۔جی سر۔۔۔۔۔۔

خان ہوش میں آتے ہوئے فورا ذوالقرنین کے پاس پہنچا


گاڑی نکالو۔۔۔۔۔۔

وہ بنا خان کو دیکھے بولا اور اسکو بانہوں میں اٹھائے باہر کی جانب دوڑ لگا دی


♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡


ایمن تم اتنی پریشان کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

آہل جو ایمن کو تنگ کرنے کے بہانے باہر نکلا تھا ایمن کو یوں پریشان زیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا


تم سے مطلب۔۔۔۔۔۔۔

ایمن آہل کو دیکھتی روکھے انداز میں بولی تھی


یہ تو تم ہر وقت مطلب کی بات کرتی رہتی ہو بڑی مطلبی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔

آہل معصومیت سے بولا تھا


ایمن نے ابرو اچکا کے آہل کع رئیلی کا تاثر دیا تھا


آیل نے فورا نفی میں سر ہلایا تھا


یار تم مجھ سے اتنی چڑتی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔۔

آہل لہجے میں حیرانگی سموئے ایمن سے پوچھنے لگا


کیونکہ تم پاگل ہو اور مجھے پاگل لوگوں سے چڑ ہے۔۔۔۔۔۔

ایمن لہجے میں طنز لیے بولی


یار تمھیں کیسے پتا چلا میں پاگل ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

پھٹی پھٹی آنکھیں کھولے وہ ایمن سے مخاطب ہوا


ایمن نے اپنا سر پیٹا تھا


میں حیران ہوں تم سر کے دوست ہو وہ اتنے میچور اور خود کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمن حیرانگی سے بولی تھی


بس دیکھ لو۔۔۔۔۔۔

آہل نے فخریہ اپنے کالر جھاڑے تھے


اچانک ایمن کی نظر موبائل پر پڑی جس میں حوری کی پک لگی تھی


حوری تم ٹھیک تو ہو نہ میرا دل اتنا کیوں گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ایمن نے دل پی دل میں سوچا تھا اس کے چہرے پر پریشانی صاف واضح دکھ رہی تھی


ایمن تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔

آہل فکر مندی سے پوچھا تھا


تم یہاں پر کیا کررہے ہو۔۔۔۔۔۔

ایمن ایک بار پھر غصے سے بولی تھی


یار میں تو اسے ڈھونڈ رہا ہوں پتا نہیں کیاں غائب ہو گئی ہے


کس کو ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ جو کھو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کون کھو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یار پتہ نہیں کدھر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔


کون چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔


کیوں پہیلیاں بجوا رہے ہو میں چلی جائوں گی یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔


یار وہ بھی چلی گئی ہے اب تم بھی چلی جائو گی


کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کی بار ایمن غصے سے چلائی تھی


تمھاری سمائل۔۔۔۔۔۔۔

آہل شرارتی انداز میں بولا تھا


تم بھی نا۔۔۔۔۔

ایمن کے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ پھیلی تھی


Don't forget like and cmnt 🙂🙂🙂


Next epii 300 likes par ayen ge....🙂🙂



SAMUNDAR MEIN KINARA TU (BEAST💀)



HANIA BUKHARIII

Samundar mein kinara tu novel by HANIA BUKHARIII


EPISODE_4


♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡


Don't copy paste without my permission🙂🙂


💕کتنے سادہ ہیں فقیروں کے عقیدے مرشد💕

💕دیکھ لینے کو لاقات سمجھ لیتے ہیں 💕


ٹینشن لینے کی کوئی بات نہیں کمزوری اور صدمے کے باعث وہ بیہوش ہو گئی تھی کچھ دیر بعد ہوش میں آ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتی جا چکی تھی


ذوالقرنین کے دل کو سکون پہنچا تھا


ان کی ساری ڈیٹیلز نکلوائو اور ان کے گھر والوں کو انفارم کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین خان کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا


جی سر۔۔۔۔۔۔

خان نظریں جھکائیں بولا تھا


ذوالقرنین روم میں داخل ہوا تو اس کی نظر حور پر ٹہر گئی ذوالقرنین کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی 


وہ چلتا ہوا اس کے قریب بیٹھ گیا اور اسکو سوتے ہوئے دیکھنے لگا


دل کررہا تھا یہ وقت کبھی نہ ختم ہو وہ اسے یوں ہی پوری زندگی دیکھتا رہے گلابی ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست تھے اور نچلے ہونٹ کے نیچے زرا فاصلے پر چھوٹا سا تل۔۔۔۔۔۔

 ذوالقرنین نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے  ہونٹوں کو چھوا تھا اور پھر اسکے تل کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اب اسکی نظر سلکی بھورے بالوں پر گئی جو ماتھے پر بکھرے تھے ذوالقرنین نے ہاتھ بڑھا کے پیچھے کیے تھے اب اس کی سفید پیشانی سامنے تھی


ذوالقرنین یہ تمھیں کیا ہورہا ہے کیوں تو اس لڑکی کو دیکھا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین نے دل میں سوچا تھا


وہ جیسے ہی اٹھنے لگا لیکن پھر بیٹھ گیا دل انکاری تھا اسکے پاس سے اٹھنے کو


ذوالقرنین سکندر ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین سکندر کے پیچھے لڑکیاں مرتی ہے نہ کے ذوالقرنین لڑکیوں پر

ذوالقرنین نے دل ہی دل میں سوچا تھا


ہوش میں آتے ہی وہ چلانے لگی اور بازو میں لگی ڈرپ کی سوئی اتار کے پھینک دی۔۔۔۔۔۔۔ 


بجو پلیز بچالے۔۔۔۔۔۔۔

آنکھیں بند کیے وہ چلارہی تھی 


ذوالقرنین ایکدم ہوش میں آیا تھا


آنکھیں کھولیں دیکھیں آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالقرنین حوری کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا


کسی کی نگاہوں کی تپش اور لمس سے اسے ہوش کی وادیوں میں لیکر آئی اسنے جھٹ  سے آنکھیں کھولی تھی گزا لمحہ اس کے ذہن میں گردش کرنے لگا 


آمنہ کا اسے ہوٹل میں چھوڑنا پھر اس انجان شخص کا بچانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخری خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ پھرتی سے اٹھی لیکن سامنے نظر پڑتے ہی وہ رک گئی


اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے ایمن کا چہرا لہرایا اور اس کے الفاظ کانوں سے ٹکڑائے تھے


سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔


اس پہ نظر پڑتے ہی خوف کی ایک سرد لہر اسکے رگ و پے میں داخل ہو گئی


وہ اٹھ کے دروازے کی اور بڑھنے لگی جب اسکی پرسکون آواز نے اسکے قدم جمادیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپ کہاں بھاگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔

اسکی بات پہ تھم گئی اور طیش کی ایک لہر اسکے اند دوڑ گئی


اتنے میں خان بھی روم میں داخل ہو گیا


میں بھاگ نہیں رہی گھر جانا ہے پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔۔

وہ غصے سے بولتی سسک پڑی


خان ہکا بکا اس لڑکی کو دیکھنے لگا ایک تو بچایا اوپر سے یہی غلط سمجھ رہی


♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡


تمھاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی۔۔۔۔۔۔۔

اسکی  آنکھوں میں دہشت تھی سامنے والوں کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی


پ۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔

سامنے والے کے ڈر سے وہ گر گرایا


معافی کی کوئی گنجائش نہیں تم نے اسے چھو کے گناہ کیا ہے۔۔۔۔

برف جیسا تاثر لیے وہ اس سے مخاطب ہوا


پ۔۔۔پلیز آئندہ میں نہیں کروں گا پلیز مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔

اب کی بار وہ شدت سے روتے ہوئے بولا


تم جانتے ہو میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں گپ اندھیرے کی وجہ سے وہ صرف اسکی آواز سن سکتا تھا


ہاں میں جانتا ہوں تم بیسٹ ہو ایک سنگدل ۔۔۔۔۔۔۔

وہ روتے ہوئے بولا تھا


ہاپا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔

کمرے میں ہر طرف اسکے ہنسنے کی آواز گونجنے لگی


پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔

سامنے والی کی ہنسی دیکھ کر وہ خوف میں مبتلا ہو گیا اسکے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے


بیسٹ معاف کرنا نہیں جانتا وہ بس سزا دینا جانتا ہے جس کے تم حقدار ہو۔۔۔۔۔

وہ سرد تاثر اپنائے اس سے مخاطب ہوا


پ۔۔پلیز 

اسکو کچھ بولنے کا موقع دیے وہ بلیڈ سے اسکی گردن کاٹ چکا تھا

سامنے والے ہاتھ بالکل بھی نہ کانپے تھے 

کمرے میں اس شخص کی دل خراش چینخے تھی


I know k short hai....🙂🙂

Aj 300 likes or nice or next k elawa achay cmnt ayen toh next epi Inshallah kal long hoge.....🙂🙂🙂

Nh toh 2 din baad🙂🙂🙂

Shukria 🙂🙂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do not enter any spam link in the comment box.